حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے تاریخی کمال مولیٰ مسجد (بھوج شالا) تنازعہ میں ایک اور پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں مرکزی حکومت نے ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ 1935 کا وہ نوٹیفکیشن جس کے تحت مسلمانوں کو وہاں نماز کی اجازت دی گئی تھی، قانونی طور پر درست نہیں ہے۔
یہ معاملہ ایک قدیم متنازعہ مقام سے متعلق ہے جسے ہندو فریق بھگوان سرسوتی کا مندر بتاتے ہیں، جبکہ مسلم فریق اسے کمال مولیٰ مسجد کہتے ہیں۔ یہ مقام آثارِ قدیمہ کے محکمہ کے تحت محفوظ یادگار ہے۔
مرکزی حکومت کے مطابق سابق ریاست دھار کی جانب سے جاری کیا گیا 1935 کا نوٹیفکیشن قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا، اس لیے اسے بنیاد بنا کر مذہبی حقوق کا دعویٰ درست نہیں ہو سکتا۔
عدالت میں زیر سماعت درخواستوں میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ اس مقام کا سائنسی سروے کیا جائے اور اسے مکمل طور پر ہندو فریق کے حوالے کیا جائے، جبکہ مسلم فریق اس کی مخالفت کر رہا ہے اور تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر اسے مسجد قرار دے رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2003 میں ایک انتظامی نظام کے تحت ہندوؤں کو منگل کے دن پوجا اور مسلمانوں کو جمعہ کے دن نماز کی اجازت دی گئی تھی، جو اب بھی جزوی طور پر نافذ ہے۔
دوسری جانب عدالت میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا یہ تنازعہ آئینی نوعیت کا ہے یا ایک خالص سول (ملکی) معاملہ، جس کا فیصلہ سول عدالت میں ہونا چاہیے۔
یہ مقدمہ نہ صرف قانونی بلکہ مذہبی اور تاریخی لحاظ سے بھی انتہائی حساس حیثیت اختیار کر چکا ہے، اور اس کے فیصلے کے دور رس اثرات متوقع ہیں۔
یہ خبر بھی ضرور پڑھیں:
کمال مولا مسجد سے متعلق اہم اور تاریخی دستاویز عدالت میں پیش


