حیدرآباد (دکن فائلز) العربیہ اور بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں احمدیہ گروہ کے خلاف بڑے پیمانے پر پولیس کارروائی نے پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ چیشائر پولیس نے مبینہ جنسی زیادتی، جبری شادی، انسانی اسمگلنگ اور جدید دور کی غلامی جیسے سنگین جرائم کے الزام میں احمدی ریلجین آف پیس اینڈ لائٹ نامی غیراسلامی گروہ سے وابستہ 10 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 500 پولیس اہلکاروں نے کریؤ میں قائم اس گروہ کے مراکز پر چھاپے مارے۔ کارروائی میں ایروپول اور دیگر سکیورٹی اداروں نے بھی حصہ لیا۔ پولیس نے ویب ہاوز سمیت دو دیگر عمارتوں کی بھی تلاشی لی، جہاں اس گروہ کے ارکان رہائش پذیر تھے۔
یہ تحقیقات ایک ایسی خاتون کی شکایت کے بعد شروع ہوئیں جو ماضی میں اس گروہ کا حصہ رہ چکی تھی۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ 2023 کے دوران اسے جنسی استحصال، زبردستی تعلقات، جبری شادی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
چیشائر پولیس کے چیف انسپکٹر گریتھ رنگلی نے کہا کہ یہ کارروائی انتہائی سنجیدہ الزامات کی بنیاد پر کی گئی ہے اور پولیس ہر متاثرہ فرد کو انصاف دلانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائی کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ مخصوص افراد کے مبینہ مجرمانہ اعمال کے خلاف ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار شدگان میں امریکہ، مصر، اسپین، جرمنی، میکسیکو، سویڈن، برطانیہ اور اٹلی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان پر جنسی زیادتی، عصمت دری، جبری شادی، جدید غلامی اور انسانی اسمگلنگ جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ گرفتار شدگان میں سات مرد اور تین خواتین شامل ہیں جبکہ مزید افراد سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق ویب ہاوز میں تقریباً 150 افراد رہائش پذیر تھے جن میں 56 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ بچے ہوم اسکولنگ کے ذریعے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اب پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن ادارے ان بچوں کی حفاظت اور ذہنی حالت کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بند مذہبی گروہوں میں اس طرح کے ماحول بچوں کی ذہنی و سماجی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ برطانوی ذرائع ابلاغ اور مذہبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ گروہ احمدیہ مسلم کمیونٹی سے مختلف بتایا جارہا ہے۔ تاہم مسلم تنظیموں اور مذہبی حلقوں نے اس کے عقائد و نظریات سے ہمیشہ فاصلہ رکھا ہے۔
کنگز کالج لندن سے وابستہ محقق سارا ہاروے نے کہا کہ یہ ایک “نیا مذہبی گروہ” ہے جو خود کو واحد سچا مذہب قرار دیتا ہے اور اس کے مخصوص نظریات و طرز عمل ہیں۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے چیشائر پولیس کی فوری اور منظم کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے گروہوں کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہیں جو مذہب کے نام پر کمزور افراد کا استحصال کرتے ہیں۔
جنسی استحصال، جبری شادی اور غلامی جیسے جرائم نہ صرف غیر قانونی بلکہ شدید غیر انسانی اور غیراخلاقی حرکتیں ہیں۔ کسی بھی مذہبی یا سماجی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خواتین، بچوں یا کمزور افراد کو ذہنی، جسمانی یا سماجی غلامی میں دھکیل دے۔
ماہرین کے مطابق اس کیس نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مذہبی لبادہ اوڑھ کر سرگرم بعض انتہا پسند یا بند گروہ کس طرح لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف قانون کی سخت کارروائی نہ صرف ضروری بلکہ معاشرے کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔


