حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خلاف مبینہ طور پر “قومی مخالف” اور اشتعال انگیز پوسٹس شیئر کرنے کے الزام میں درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا کو عوامی ہم آہنگی خراب کرنے یا نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ دو افراد، زبیر انصاری اور اظہار عالم، سے متعلق ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے فیس بک پر وزیر اعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز اور “اینٹی نیشنل” مواد شیئر کیا۔ پولیس نے اس معاملہ میں مقدمہ درج کرتے ہوئے چارج شیٹ بھی داخل کی تھی، جسے چیلنج کرتے ہوئے ملزمین نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
جسٹس سوربھ سریواستو نے سماعت کے دوران کہا کہ ابتدائی شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ مکمل تحقیقات اور ٹرائل کا متقاضی ہے، اس لیے اس مرحلہ پر ایف آئی آر یا چارج شیٹ کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اشتعال انگیزی یا مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے استعمال کرنا قابل قبول نہیں۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ فیس بک پوسٹس بظاہر مذہبی جذبات مجروح کرنے اور سماجی انتشار پیدا کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیمیں کئی دہائیوں سے مختلف سماجی خدمات انجام دے رہی ہیں، اس لیے ان کے خلاف نفرت انگیز مہمات کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔
عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب ملزمین کے خلاف فوجداری کارروائی جاری رہے گی اور معاملہ نچلی عدالت میں زیر سماعت رہے گا۔ اس فیصلے پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی بحث چھڑ گئی ہے۔


