حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی حکومت نے ایک کتاب “Islamic Ethics of Warfare” کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس کی اشاعت، تقسیم اور فروخت پر روک لگانے کے ساتھ اس کی کاپیاں ضبط کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ کتاب میں موجود بعض مواد مذہبی انتہا پسندی، نفرت اور تشدد کو فروغ دیتا ہے اور یہ قومی سلامتی اور عوامی نظم و نسق کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق دہلی حکومت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس کتاب کی تمام دستیاب کاپیاں، پرنٹ مواد اور اس سے متعلق دستاویزات ضبط کریں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کتاب کا مواد مختلف طبقات کے درمیان دشمنی اور اشتعال پیدا کرسکتا ہے، جس کے باعث امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صحافی سوگتا رائے کی جانب سے شیئر کی گئی دستاویز میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت نے اس کتاب کو “شدت پسندی کی ترغیب” دینے والا مواد قرار دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر کسی بھی اشاعت یا مواد سے فرقہ وارانہ کشیدگی، مذہبی منافرت یا انتہا پسندانہ نظریات کو تقویت ملنے کا اندیشہ ہو تو انتظامیہ کارروائی کرنے کی مجاز ہے۔
دوسری جانب اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آرہی ہے۔ بعض سماجی کارکنان اور دانشوروں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا حکومت نے کتاب کے پورے متن کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی کتاب پر پابندی اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے حساس مسئلہ ہے اور اس طرح کے فیصلوں میں شفافیت ضروری ہونی چاہیے۔
قومی آواز کی رپورٹ کے مطابق کتاب پر “نفرت پھیلانے” اور “شدت پسندانہ خیالات” کو فروغ دینے کے الزامات لگائے گئے ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس قسم کا مواد نوجوانوں کو گمراہ کرسکتا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرسکتا ہے۔
ابھی تک کتاب کے مصنف یا ناشر کی جانب سے اس حکومتی اقدام پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ ایک طبقہ حکومت کے اقدام کو قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے فکری آزادی پر قدغن سے تعبیر کررہا ہے۔


