نہ مذہب کی پرواہ، نہ عہدہ کا لحاظ: مسلم خاتون جیلر نے ہندو قیدی سے رچائی شادی! مرتد کی محبت موضوعِ بحث

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے چھترپور اور ستنا اضلاع میں ایک انوکھی بین المذاہب محبت کی کہانی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے، جہاں ایک مسلم خاتون اسسٹنٹ جیلر نے سابق ہندو قیدی سے ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کرلی۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ریوا کی رہنے والی فیروزہ خاتون ستنا سینٹرل جیل میں اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اسی جیل میں دھرمندر سنگھ چندلا نامی قیدی قتل کے ایک مقدمہ میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ جیل میں اچھے برتاؤ کی وجہ سے دھرمندر انتظامی امور میں جیل حکام کی مدد بھی کرتا تھا، جس دوران دونوں کے درمیان جان پہچان ہوئی جو بعد میں محبت میں بدل گئی۔

بتایا جاتا ہے کہ دھرمندر سنگھ کو 2007 میں چندلا نگر پریشد کے نائب صدر کرشن دت دکشت کے قتل کیس میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ تقریباً 14 سال جیل میں گزارنے کے بعد اچھے برتاؤ کی بنیاد پر اسے قبل از وقت رہائی ملی تھی۔ رہائی کے بعد بھی دونوں کے درمیان رابطہ برقرار رہا اور بالآخر انہوں نے شادی کا فیصلہ کرلیا۔

یہ شادی 5 مئی کو چھترپور کے لوک کش نگر علاقے میں ہندو رسم و رواج کے مطابق انجام پائی۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ فیروزہ خاتون کے اہل خانہ نے اس شادی کی مخالفت کی اور تقریب میں شرکت نہیں کی، جس کے بعد بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے “کنیا دان” کی رسم ادا کی۔ شادی ویدک منتروں اور روایتی ہندو رسومات کے درمیان مکمل ہوئی۔

اس غیر معمولی شادی نے مقامی سطح پر مختلف ردعمل کو جنم دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں