دینی مدرسہ کے تین مولانا انسانیت کی علامت بن گئے! جان خطرے میں ڈال کر جلتی گاڑی سے مسافروں کو بچالیا

(تصویر بشکریہ آواز دی وائس)
حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع بہرائچ میں پیش آئے ایک خوفناک سڑک حادثے کے دوران مدرسے کے تین اساتذہ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر انسانیت کی ایسی مثال قائم کی جسے ہر طرف سراہا جا رہا ہے۔ جہاں کئی لوگ حادثے کی ویڈیو بنانے میں مصروف تھے، وہیں ایک مدرسہ کے تین مولانا (اساتذہ) جلتی گاڑی میں پھنسے زخمیوں کو بچانے کے لیے آگے بڑھ گئے۔

یہ حادثہ فخرپور تھانہ علاقے کے رکنہ پور بازار کے قریب نیشنل ہائی وے پر پیش آیا، جہاں بہرائچ سے لکھنؤ جا رہی ایک ایرٹیگا کار اور بارہ بنکی سے آنے والی ہونڈائی کار کے درمیان زبردست ٹکر ہوگئی۔ تصادم کے فوراً بعد ہونڈائی کار میں آگ لگ گئی اور چند لمحوں میں گاڑی شعلوں کی لپیٹ میں آگئی۔

عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ موقع پر جمع ہوگئے لیکن بیشتر افراد موبائل فون سے ویڈیو بنانے میں مصروف رہے۔ اسی دوران قریبی مدرسے کے اساتذہ حافظ شفیع الدین، حافظ اسلام الدین اور حافظ شمس الدین فوراً موقع پر پہنچے اور بغیر کسی خوف کے زخمیوں کو باہر نکالنے کی کوشش شروع کردی۔

شدید گرمی اور آگ کے باوجود تینوں مولانا مسلسل جدوجہد کرتے رہے اور بالآخر کئی زخمیوں کو جلتی گاڑی سے نکال کر محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی بروقت کارروائی نے ممکنہ طور پر کئی قیمتی جانیں بچا لیں۔

حادثے میں مجموعی طور پر چھ افراد زخمی ہوئے جن میں جتیندر لال، متھیلیش، امولیہ کشواہا، مینا کشواہا، اگمیا سنگھ اور رودر پرتاپ شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے قیصر گنج کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی کنداسر چوکی انچارج پی این پانڈے اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹریفک بحال کرایا جبکہ کچھ دیر تک ہائی وے پر آمد و رفت متاثر رہی۔

بعد ازاں مدرسے کے تینوں اساتذہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے اور مصیبت میں گھرے انسان کی مدد کرنا ہر شخص کا فرض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں ویڈیو بنانے کے بجائے جان بچانا زیادہ ضروری تھا۔

سوشل میڈیا پر بھی تینوں مولانا کی بہادری، انسان دوستی اور فوری اقدام کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ کئی صارفین نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ مذہب، ذات اور فرقے سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت ہی اصل پیغام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں