دلتوں اور مسلمانوں کی مضبوط آواز ’راجکمار بھاٹی‘ کے خلاف مقدمہ درج، برہمن مخالف بیان کا الزام

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کے ترجمان راجکمار بھاٹی کے ایک متنازع بیان کے بعد سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ غازی آباد پولیس نے برہمن سماج کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریمارکس دینے پر راجکمار بھاٹی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ بی جے پی، کانگریس اور دیگر سیاسی حلقوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

پولیس کے مطابق کَوِی نگر تھانے میں بی جے پی لیڈر اجے شرما کی شکایت پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 196(1) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ راجکمار بھاٹی کے بیان سے برہمن سماج کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اس سے سماجی منافرت کو ہوا ملی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں راجکمار بھاٹی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’نہ برہمن اچھا ہوتا ہے اور نہ طوائف‘‘۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد شدید تنازع کھڑا ہوگیا اور مختلف تنظیموں نے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

تنازع بڑھنے پر راجکمار بھاٹی نے وضاحت پیش کرتے ہوئے معافی مانگ لی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تقریر کے چند حصوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر وائرل کیا گیا تاکہ ان کے خلاف “منفی پروپیگنڈہ” کیا جاسکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد کسی برادری کی توہین نہیں تھا۔

ادھر اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سماجوادی پارٹی کی “حقیقی ذہنیت” ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برہمن سماج نے ملک کی تعمیر، آئین، علم اور تہذیب میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے خلاف اس طرح کی زبان ناقابل قبول ہے۔

برجیش پاٹھک نے سماجوادی پارٹی پر الزام لگایا کہ ماضی میں بھی اس کے کئی لیڈروں نے سناتن دھرم، سنتوں اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف بیانات دیے۔ انہوں نے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کریں آیا یہ بیان پارٹی کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے یا نہیں۔

کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے نے بھی اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن کسی پوری برادری کی توہین ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف معافی کافی نہیں بلکہ ذمہ دار لیڈروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں