حیدرآباد (دکن فائلز) مصر میں ایک رکنِ پارلیمنٹ کے بیان نے مذہبی، سماجی اور تعلیمی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مصری ایوانِ بالا (مجلسِ شیوخ) کے رکن اور مذہبی کمیٹی کے سیکرٹری شیخ احمد ترک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ دور میں مساجد کی تعمیر کے بجائے سکولوں، تعلیمی اداروں اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے عطیات دیں، کیونکہ ملک کو اس وقت تعلیم کی زیادہ ضرورت ہے۔
ان کے اس بیان کے بعد مصری سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک طبقہ اسے “فقہ الاولویات” کے مطابق حقیقت پسندانہ مؤقف قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا حلقہ اس بیان کو مساجد کی اہمیت کم کرنے کی کوشش سمجھ کر تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔
تعلیمی بحران پر پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کے دوران شیخ احمد ترک نے کہا کہ مصر کے بیشتر علاقوں میں مساجد کی تعداد اب ضرورت کے مطابق ہو چکی ہے، اس لیے عوامی خیرات اور عطیات کو اب سکولوں کی تعمیر، تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ “موجودہ حالات میں ہر جگہ نئی مساجد تعمیر کرتے رہنا منشائے الٰہی اور فقہ الاولویات کے فہم کے مطابق نہیں۔”
مصری ٹی وی چینل “ایم بی سی مصر” کے پروگرام “الحکایہ” میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ احمد ترک نے وضاحت کی کہ اسلام نے مساجد کی تعمیر کی ترغیب اس وقت دی تھی جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی اور عبادت گاہوں کی کمی تھی، مگر آج مصر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مساجد موجود ہیں اور کئی علاقوں میں یہ ضرورت پوری ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود لوگ ہر ہفتے اور ہر ماہ درجنوں نئی مساجد تعمیر کر رہے ہیں، جبکہ ملک کو تعلیم کے شعبے میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
شیخ احمد ترک نے واضح کیا کہ وہ مساجد کی تعمیر کے مخالف نہیں بلکہ خود ایک امامِ مسجد ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جہاں پہلے سے مساجد کی کثرت موجود ہو وہاں مزید مساجد بنانا ترجیحات کے درست تعین کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہاکہ “اسلام صرف مسجد بنانے کا نام نہیں، بلکہ علم، تعلیم، تعمیر اور معاشرے کی ترقی کی بھی تعلیم دیتا ہے۔”
ان کے مطابق آج کے دور میں تعلیم ہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو ترقی، شعور اور طاقت عطا کرتا ہے، اس لیے معاشرے کو چاہیے کہ وہ تعلیمی میدان میں سرمایہ کاری کو بھی “عملِ صالح” سمجھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص ایک سکول تعمیر کرے گا اور تعلیم کے فروغ میں کردار ادا کرے گا، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر عظیم کا مستحق ہوگا۔
شیخ احمد ترک نے مصری حکومت، وزارتِ تعلیم اور وزارتِ اوقاف سے مطالبہ کیا کہ تعلیم کے فروغ کے لیے نئے اوقاف اور خیراتی فنڈز قائم کیے جائیں تاکہ غریب اور پسماندہ طبقوں کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی ادارے عوامی عطیات اور فلاحی فنڈز کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، جبکہ مسلم معاشروں میں بھی اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیم کو اولین ترجیح بنایا جائے۔
شیخ احمد ترک کے اس بیان کے بعد مصری سوشل میڈیا دو حصوں میں تقسیم دکھائی دیا۔ بہت سے صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عرب دنیا خصوصاً مصر کو اس وقت معیاری تعلیم، سائنسی ترقی اور جدید تعلیمی اداروں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر قومیں تعلیم میں پیچھے رہ جائیں تو صرف عبادت گاہوں کی کثرت انہیں ترقی یافتہ نہیں بنا سکتی۔
دوسری جانب ناقدین نے کہا کہ مساجد صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ دینی تربیت، سماجی اصلاح اور روحانی وابستگی کا مرکز بھی ہیں، اس لیے ان کی اہمیت کم نہیں کی جا سکتی۔
بعض مذہبی حلقوں نے اس بیان کو “غیر محتاط” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو مساجد اور سکول دونوں کی تعمیر میں حصہ لینا چاہیے، نہ کہ ایک کو دوسرے کے مقابل کھڑا کیا جائے۔
اس بحث نے مصر میں “ترجیحاتِ امت”، تعلیم، مذہبی خدمات اور سماجی ترقی کے موضوع پر ایک نئی فکری گفتگو کو جنم دے دیا ہے۔


