حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر (اورنگ آباد) میں میونسپل کارپوریشن نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے کارپوریٹر متین پٹیل کے مکان اور دفتر پر بلڈوزر چلا دیا۔ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ یہ تعمیرات غیر قانونی تھیں اور مطلوبہ اجازت نامے حاصل کیے بغیر بنائی گئی تھیں۔
یہ کارروائی اُس وقت خبروں میں آئی جب ناسیك کے ٹی سی ایس دفتر میں مبینہ جنسی ہراسانی اور جبری مذہب تبدیلی معاملے کی اہم ملزمہ ندا خان کے بارے میں انکشاف ہوا کہ گرفتاری سے قبل وہ متین پٹیل کے مکان میں مقیم تھی۔ اس کے بعد انتظامیہ نے متین پٹیل کی جائیدادوں کی جانچ شروع کی۔
انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کو غیرقانونی اور من مانی قرار دیتے ہوئے مقامی لوگوں خاص طور پر مسلم خواتین نے سرکاری عہدیداروں کو آئین کی کاپیاں پیش کیں۔متین پٹیل نے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے خود ہی مکان خالی کر دیا، تاہم احتجاج کا ایک انوکھا طریقہ اپناتے ہوئے ان کے اہل خانہ نے کارروائی کے لیے آنے والے افسران کا استقبال آئینِ ہند (Constitution) کا نسخہ دے کر اور پھول نچھاور کر کے کیا، تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ ملک کے قانون کا احترام کرتے ہیں مگر ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔
میونسپل کارپوریشن کے مطابق نریگاؤں علاقے کے کوثر پارک میں واقع تقریباً 600 مربع فٹ کے مکان اور دفتر سے متعلق قانونی دستاویزات طلب کرتے ہوئے 9 مئی کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ نوٹس میں متین پٹیل سے 72 گھنٹوں کے اندر تعمیرات کی منظوری سے متعلق کاغذات پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔
کارپوریشن حکام کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب نہ ملنے پر انہدامی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ متین پٹیل نے کارروائی رکوانے کے لیے مقامی عدالت سے رجوع کیا اور وضاحت پیش کرنے کے لیے مزید وقت مانگا، تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی۔
عدالتی راحت نہ ملنے کے بعد بدھ کے روز میونسپل کارپوریشن کی ٹیم پولیس کی موجودگی میں موقع پر پہنچی اور بلڈوزر کے ذریعے مکان اور دفتر کو منہدم کردیا۔ اس دوران علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔
سیاسی حلقوں میں اس کارروائی پر مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، جبکہ کچھ حلقے اسے سیاسی دباؤ اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔


