حیدرآباد (دکن فائلز) کرناٹک کی کانگریس حکومت نے سابق بی جے پی حکومت کے دور میں 2022 میں نافذ کیے گئے متنازعہ حجاب پابندی حکم نامے کو باضابطہ طور پر واپس لے لیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب سرکاری، امدادی اور نجی تعلیمی اداروں میں طالبات کو یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت ہوگی۔
کرناٹک حکومت کے نئے حکم نامے کے مطابق طلبہ و طالبات اب اپنی مذہبی اور روایتی شناخت سے جڑی محدود علامتیں، جیسے حجاب، جنیو، رودراکش اور دیگر مذہبی نشانات یونیفارم کے ساتھ استعمال کرسکیں گے، بشرطیکہ ادارے کے عمومی ڈریس کوڈ کا احترام برقرار رکھا جائے۔
یہ پابندی فروری 2022 میں اُس وقت کی بی جے پی حکومت نے نافذ کی تھی، جس کے بعد پورے ملک میں شدید تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ کئی مسلم طالبات کو صرف حجاب پہننے کی وجہ سے کلاس روم میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا، جس پر احتجاج، عدالتی مقدمات اور سیاسی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔
اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مختلف مسلم تنظیموں، سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے حلقوں نے کہا ہے کہ یہ قدم آئینی آزادی، مذہبی حقوق اور خواتین کے تعلیمی حق کے تحفظ کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ مبصرین کے مطابق کرناٹک حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ تعلیم کے دروازے کسی طالبہ کے لباس یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر بند نہیں کیے جا سکتے۔
حجاب صرف ایک لباس نہیں بلکہ مسلم خواتین کی مذہبی شناخت، حیا، وقار اور آزادیِ عقیدہ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسلام میں پردے کو عورت کے احترام، تحفظ اور اخلاقی عظمت سے جوڑا گیا ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں مسلم خواتین اپنی مرضی اور عقیدے کے تحت حجاب اختیار کرتی ہیں، اور اسے اپنے ایمان کا حصہ تصور کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق تعلیمی اداروں میں حجاب کی اجازت دینا دراصل ایک ایسے سماج کی عکاسی ہے جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں کو یکساں احترام حاصل ہو۔ کرناٹک حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف مسلم طالبات کے اعتماد کو بحال کرے گا بلکہ مذہبی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کو بھی مضبوط بنائے گا۔


