امتیاز جلیل کا بنگلہ بھی گرایا جائے گا، سنجے شرساٹ کی دھمکی پر مجلسی رہنما نے کہا ’’یہ بلڈوزر نہیں انصاف کا جنازہ ہے‘‘ (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) ندا خان اور متین پٹیل معاملے پر مہاراشٹر کی سیاست مزید گرم ہوگئی ہے۔ شیوسینا (شندے گروپ) کے سینئر لیڈر اور ریاستی وزیر سنجے شرساٹ نے مجلس اتحاد المسلمین کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمان امتیاز جلیل پر سخت حملہ کرتے ہوئے انہیں ’’اربن ٹیرارسٹ‘‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ندا خان کو چھپانے میں امتیاز جلیل کا اہم کردار تھا۔

متین پٹیل کے بنگلے پر بلڈوزر کارروائی کے فوراً بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنجے شرساٹ نے کہا کہ پورے مہاراشٹر کی پولیس جس ندا خان کی تلاش میں تھی، اسے 35 دن تک متین پٹیل کے مکان میں چھپا کر رکھنے کا منصوبہ امتیاز جلیل نے بنایا تھا۔ ان کے مطابق ’’اس غریب کارپوریٹر کا اس میں کوئی رول نہیں تھا، امتیاز جلیل نے ہی اسے پھنسا دیا۔‘‘

شرساٹ نے مزید کہا کہ اگر امتیاز جلیل کا مکان بھی غیر قانونی ثابت ہوا تو اس پر بھی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی جانچ کروائیں گے اور اگر کسی قسم کی خلاف ورزی سامنے آئی تو بلڈوزر وہاں بھی پہنچے گا۔

دوسری جانب امتیاز جلیل نے سنجے شرساٹ کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں بھی اترپردیش کی طرز پر ’’بلڈوزر سیاست‘‘ شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہ بلڈوزر نہیں بلکہ انصاف کا جنازہ ہے۔‘‘

امتیاز جلیل نے کہا کہ متین پٹیل کے اہل خانہ نے میونسپل عملے کا استقبال پھولوں سے کیا اور انہیں دستور ہند کی کاپی پیش کی۔ ان کے مطابق یہ پھول عملے پر نہیں بلکہ ’’انصاف کے جنازے‘‘ پر برسائے گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی کسی مسلم شخص پر الزام لگتا ہے، سیاسی جماعتیں اور میڈیا فوراً اسے مجرم قرار دے دیتے ہیں اور سزا کا مطالبہ شروع ہو جاتا ہے، جبکہ عدالت اور قانونی عمل کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ امتیاز جلیل نے سوال اٹھایا کہ اگر فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے تو پھر عدالتوں اور وکیلوں کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟

بعد ازاں امتیاز جلیل نے اورنگ آباد میونسپل کمشنر سے ملاقات بھی کی اور پوچھا کہ شہر میں دیگر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی جبکہ صرف متین پٹیل کی جائیداد کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں قانون سب کیلئے یکساں ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں