حیدرآباد (دکن فائلز) مقبوضہ بیت المقدس: مسجدِ اقصیٰ کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند ہیکل گروپوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے درمیان فلسطینی ماہرین، مذہبی اداروں اور حقوقی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آنے والا جمعہ مسجدِ اقصیٰ کیلئے ’’1967 کے بعد کا سب سے خطرناک دن‘‘ ثابت ہو سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قابض اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند آبادکار گروہ مسجدِ اقصیٰ کے اندر نئی حقیقتیں مسلط کرنے اور جمعہ کے روز بھی آبادکاروں کے دھاووں کی روایت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس کے امور کے معروف ماہر اور محقق زیاد ابحیص نے خبردار کیا کہ 15 مئی 2026، جو ایک طرف فلسطینی یومِ نکبہ کی 78 ویں برسی ہے، دوسری طرف اسرائیل کے نام نہاد ’’یومِ توحید القدس‘‘ یا قبضۂ قدس کی عبرانی برسی بھی ہے۔ یہی خطرناک ہم آہنگی انتہا پسند ہیکل گروپوں کو موقع فراہم کر رہی ہے کہ وہ مسجدِ اقصیٰ پر ایک نئی اشتعال انگیزی مسلط کریں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے 22 وزراء اور کنیسٹ اراکین نے ایک پٹیشن پر دستخط کرتے ہوئے قابض پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ آبادکاروں کو جمعہ کے دن مسجدِ اقصیٰ میں دھاوا بولنے کی اجازت دی جائے۔ ان دستخط کنندگان میں اسرائیلی حکومت کی اہم شخصیات، بشمول نائب وزیر اعظم یاریو لیون اور وزیر جنگ یسرائیل کاٹز شامل ہیں۔
فلسطینی ادارہ ’’القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن‘‘ نے اپنے ہنگامی بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور ہیکل تنظیمیں مسجدِ اقصیٰ کے اندر خطرناک تبدیلیاں لانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہیں، جن میں تلمودی رسومات، اجتماعی سجدے، اسرائیلی جھنڈے لہرانا اور مسجد کے اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر جمعہ کے روز دھاوے کی روایت قائم ہو گئی تو یہ مسجدِ اقصیٰ کی زمانی تقسیم کی پالیسی کو مستقل شکل دینے کی ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔
زیاد ابحیص نے خبردار کیا کہ اسرائیلی آبادکار صرف جمعہ کے دن دھاوے تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ وہ نمازِ عصر اور مغرب کے بعد بھی مسجدِ اقصیٰ میں داخلے کے نئے اوقات مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دھاووں کا دورانیہ روزانہ ساڑھے چھ گھنٹے سے بڑھا کر تقریباً نو گھنٹے تک پہنچایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ تمام اقدامات دراصل مسجدِ اقصیٰ پر نام نہاد ’’صہیونی خودمختاری‘‘ قائم کرنے کی کوشش ہیں۔ اسرائیل مسلسل ایسے ماحول کی تشکیل میں مصروف ہے جس کے تحت مسجدِ اقصیٰ کو مسلمانوں اور آبادکاروں کے درمیان ’’مشترکہ مذہبی مقام‘‘ کے طور پر پیش کیا جا سکے، حالانکہ قبلۂ اول پوری امتِ مسلمہ کا مقدس مقام اور اسلامی اوقاف کی ملکیت ہے۔
مسجدِ اقصیٰ اسلام کا پہلا قبلہ، معراج النبی ﷺ کی سرزمین اور مسلمانوں کے ایمان و عقیدت کا مرکز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی عوام، علما اور عالمی اسلامی تنظیمیں مسلسل اس مقدس مقام کے تحفظ کیلئے آواز بلند کر رہی ہیں۔ فلسطینی عوام کا کہنا ہے کہ اسرائیل صرف زمین پر قبضہ نہیں کر رہا بلکہ اسلامی تاریخ، شناخت اور مذہبی تقدس کو بھی مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن اور دیگر فلسطینی اداروں نے فلسطینیوں، بالخصوص بیت المقدس اور مقبوضہ فلسطین کے باشندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں مسجدِ اقصیٰ پہنچیں، رباط اور اعتکاف کریں اور اپنی موجودگی کے ذریعے اسرائیلی منصوبوں کو ناکام بنائیں۔ اداروں نے عرب اور اسلامی دنیا سے بھی فوری عوامی و سفارتی سطح پر متحرک ہونے کی اپیل کی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری اور مسلم دنیا نے خاموشی اختیار کی تو مسجدِ اقصیٰ کے اندر اسرائیلی اقدامات مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ فلسطینی عوام اس صورتحال کو صرف ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ اپنے مذہبی تشخص، تاریخی وجود اور مقدس مقامات کے دفاع کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ عالم اسلام سے مسجد اقصیٰ کی بازیابی کےلئے خوب دعائیں کرنے کی اپیل کی گئی۔


