بنگال میں بی جے پی حکومت کے متنازع فیصلے، اسکولوں میں ’وندے ماترم‘ لازمی؛ بقرعید سے قبل قربانی کے نئے سخت اصول نافذ، مسلمانوں کا شدید ردعمل

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کئی ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں جن پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔ حکومت نے ریاست کے تمام سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں صبح کی اسمبلی کے دوران ’وندے ماترم‘ گانا لازمی قرار دے دیا ہے، جبکہ عیدالاضحیٰ سے قبل قربانی اور ذبیحہ سے متعلق سخت گائیڈلائنس بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

محکمہ اسکولی تعلیم کی جانب سے 13 مئی کو جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے تمام اسکولوں میں کلاسوں کے آغاز سے پہلے صبح کے دعائیہ اجلاس میں طلبا کو ’وندے ماترم‘ گانا لازمی ہوگا۔ اسکول سربراہان کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس حکم پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور اس کا ویڈیو ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جائے تاکہ ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے اسمبلی احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگلے پیر سے ریاست بھر کے تمام اسکولوں میں ’وندے ماترم‘ کو دعائیہ گیت کے طور پر نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود نابنا جا کر اس حوالے سے انتظامیہ کو آگاہ کریں گے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکزی حکومت نیشنل آنر ایکٹ 1971 میں ترمیم کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت ’وندے ماترم‘ گانے میں رکاوٹ ڈالنے کو قابل سزا جرم بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے بعد مسلمانوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ مسلم تنظیموں نے حکومت سے فیصلے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی دوران عیدالاضحیٰ سے قبل ریاستی حکومت نے قربانی اور ذبیحہ سے متعلق نئی گائیڈلائنس جاری کر کے ایک اور بحث چھیڑ دی ہے۔ نئے اصولوں کے مطابق اب کسی بھی کھلی یا عوامی جگہ پر مویشی ذبح کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور قربانی صرف سرکاری منظوری یافتہ بوچڑخانوں میں ہی کی جا سکے گی۔

حکومت نے گائے، بھینس، بیل اور بچھڑوں کی قربانی کے لیے خصوصی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا ہے، جو مقامی نگر پالیکا یا پنچایت سربراہ اور سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر کی مشترکہ منظوری سے جاری ہوگا۔ خلاف ورزی کی صورت میں چھ ماہ تک قید، ایک ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کے ان فیصلوں سے ریاست میں سیاسی اور سماجی کشیدگی بڑھنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بنگال کی سیاست پہلے ہی شدید پولرائزیشن کا شکار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں