بڑی خبر: پیٹرول اور ڈیزل مہنگا، عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ

حیدرآباد (دکن فائلز) ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہندوستانی عوام کو ایک اور بڑا جھٹکا لگا ہے۔ مرکزی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 3 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں ایندھن کی قیمتیں نئی بلندیوں پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ اضافہ فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے اور اس کا براہِ راست اثر عام شہریوں، ٹرانسپورٹ سیکٹر، اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں اور مجموعی معیشت پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکومت اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اس فیصلے کی بنیادی وجہ ہے۔ ایران جنگ کے سبب آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی اور خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ اطلاعات کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، جس کے بعد ہندوستانی تیل کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھتا چلا گیا۔

نئی قیمتوں کے مطابق دہلی میں پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تقریباً 97.77 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 90.67 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ ممبئی، کولکاتا اور چنئی سمیت دیگر شہروں میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دہلی-این سی آر میں سی این جی کی قیمت میں بھی تقریباً 2 روپے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ صرف شروعات ہو سکتی ہے، کیونکہ اگر ایران جنگ طویل ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوئی تو ہندوستان میں ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، اس لیے خطے میں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی کا براہِ راست اثر ملک کی معیشت پر پڑتا ہے۔

سیاسی حلقوں میں بھی اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور ضروری اشیاء کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں، ایسے وقت میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ سابق مرکزی وزیر ویراپا موئیلی نے الزام لگایا کہ حکومت نے انتخابی عمل کے دوران قیمتیں بڑھانے سے گریز کیا، لیکن اب اچانک عوام پر بوجھ ڈال دیا گیا۔

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے، جس کا اثر سبزیوں، دودھ، اناج اور دیگر روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی شعبے، لاجسٹکس اور عوامی نقل و حمل کے نظام پر بھی اس فیصلے کے منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں