حیدرآباد (دکن فائلز) کرناٹک میں کانگریس حکومت کے تین سال مکمل ہونے سے قبل ریاست کی مسلم تنظیمیں 16 مئی کو بنگلورو کے ٹاؤن ہال میں ایک اہم مسلم کنونشن منعقد کرنے جا رہی ہیں۔ اس کنونشن میں کانگریس حکومت کی کارکردگی پر ایک جامع رپورٹ جاری کی جائے گی، جس کا عنوان ہوگا: “کانگریس حکومت نے کیا وعدہ کیا؟ کیا کیا؟ آگے کیا؟”
یہ کنونشن کرناٹک بھر کی مسلم تنظیموں، جماعتوں، انجمنوں اور فیڈریشنز کی مشترکہ پہل پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ پروگرام حکومت سے محاذ آرائی کے لیے نہیں بلکہ اس بات کی یاد دہانی کے لیے ہے کہ مسلمانوں سے کیے گئے وعدے مزید تاخیر کے بغیر پورے کیے جائیں اور انہیں آئینی و منصفانہ حقوق فراہم کیے جائیں۔
رپورٹ کرناٹک اسٹیٹ مسلم اوکوٹا ایڈ ہاک کمیٹی کے ارکان اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے تیار کی ہے۔ اس میں حجاب پابندی، ریزرویشن کی منسوخی، نفرت انگیز تقاریر، ہیٹ کرائم، بجٹ الاٹمنٹ، سیاسی نمائندگی، وقف مسائل، گائے ذبیحہ قانون، اینٹی کنورژن ایکٹ، اسکالرشپس اور تعلیمی مطالبات جیسے اہم موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔
منتظمین سہیل احمد مرور، تنویر احمد اور یحییٰ دامودی نے بتایا کہ کنونشن میں کسی سیاسی رہنما کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔ رپورٹ جاری ہونے کے بعد اسے وزیر اعلیٰ سدارامیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، کابینی وزرا اور ارکان اسمبلی کو پیش کیا جائے گا۔
مسلم نمائندوں کا کہنا ہے کہ ریاست کے مسلمانوں نے کانگریس پر اعتماد کیا تھا، اس لیے اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے۔ کنونشن کو کرناٹک کے مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی صورتحال کا اہم جائزہ قرار دیا جا رہا ہے۔


