حیدرآباد (دکن فائلز) قبلۂ اول، مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام اور انبیائے کرام کی سرزمین مسجدِ اقصیٰ ایک بار پھر صہیونی جارحیت اور اشتعال انگیزی کا نشانہ بن گئی۔ قابض اسرائیلی حکومت کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بول دیا، جبکہ دوسری جانب ہزاروں یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں اشتعال انگیز “پرچم ریلی” نکال کر نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے جذبات کو مجروح کیا۔
قابض اسرائیلی افواج کی سخت سکیورٹی میں نکالی گئی اس ریلی میں انتہا پسند وزیر خزانہ بزالئیل سموٹریچ، متعدد ارکانِ کنیسٹ، متشدد ربی اور دائیں بازو کے شدت پسند گروہ شریک تھے۔ آباد کار اسرائیلی پرچم لہرا رہے تھے اور “عربوں کی موت” جیسے نسل پرستانہ نعرے لگا رہے تھے۔ کئی بینرز پر مسجد اقصیٰ کی جگہ نام نہاد ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر کے اشتعال انگیز پیغامات درج تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق ریلی کے دوران فلسطینی شہریوں، صحافیوں اور دکانداروں کو ہراساں کیا گیا، ان پر تھوکا گیا اور انہیں زبردستی راستوں سے ہٹایا گیا۔ باب العامود اور قدیم شہر کی گلیاں مکمل فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اسرائیلی سنائپرز تاریخی فصیلوں پر تعینات تھے جبکہ فلسطینیوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی تھی۔
مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی، امتِ مسلمہ کے دلوں پر حملہ
مسجدِ اقصیٰ صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ایمان، تاریخ اور عقیدے کا حصہ ہے۔ یہی وہ مقدس مقام ہے جہاں سے رسول اللہ ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے اور یہی مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے۔ اس مقدس مقام کی بے حرمتی دراصل ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات پر حملہ تصور کی جا رہی ہے۔
انتہا پسند ایتمار بن گویر کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہراتے، تالیاں بجاتے اور شدت پسندوں کے ساتھ رقص کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ پس منظر میں قبۃ الصخرہ نمایاں ہے۔ بن گویر نے اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ “آج پہلے سے کہیں زیادہ اقصیٰ ہمارے قبضے میں ہے۔”
القدس گورنری کے مطابق صرف ایک دن میں 1412 آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوا بولا، جبکہ نمازیوں پر سخت پابندیاں عائد رہیں۔ 60 سال سے کم عمر مردوں اور 50 سال سے کم عمر خواتین کو داخلے سے روک دیا گیا۔ مسجد کے دروازوں پر نمازیوں کو دھکے دیے گئے اور بعض مقامات پر تشدد بھی کیا گیا۔
اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے اپنے شدید ردعمل میں کہا کہ اسرائیلی جارحیت اور مسجد اقصیٰ پر مسلسل دھاوے القدس کی اسلامی شناخت مٹانے کی ناکام کوشش ہیں۔ حماس نے واضح کیا کہ “القدس ہمیشہ فلسطینی، عرب اور اسلامی رہے گا، چاہے قابض اسرائیل اپنی سفاکیت میں کتنا ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائے۔”
حماس کے بیان میں کہا گیا کہ اقصیٰ مسلمانوں کے ایمان، تاریخ اور وابستگی کی علامت ہے اور صہیونی اقدامات فلسطینی عوام کے حوصلے کو توڑنے کے بجائے ان میں مزاحمت اور استقامت کا جذبہ مزید بڑھا رہے ہیں۔
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پرچم لہرانے اور اشتعال انگیز کارروائیوں پر سعودی عرب نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت مقبوضہ بیت المقدس اور مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔
سعودی عرب نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی اور بدامنی کو بڑھا سکتے ہیں۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل کو فوری طور پر ان غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات سے روکا جائے۔
مسجدِ اقصیٰ اسلامی تاریخ کا وہ مقدس باب ہے جس سے مسلمانوں کی روحانی وابستگی صدیوں پر محیط ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو “برکت والی زمین” قرار دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تمام انبیائے کرام نے رسول اللہ ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ ایسے مقدس مقام کی مسلسل بے حرمتی امتِ مسلمہ کے لیے شدید اذیت اور تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
عالمِ اسلام میں یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ اگر مسجد اقصیٰ کے تقدس کے تحفظ کے لیے مؤثر اور متحد آواز بلند نہ کی گئی تو قابض اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو مزید آگے بڑھا سکتا ہے۔ مسلمان عوام سوشل میڈیا، اجتماعات اور دعاؤں کے ذریعے قبلۂ اول کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں اور عالمی طاقتوں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


