کمال مولا مسجد معاملہ میں مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان: مسلم فریق (تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز دھار ضلع میں واقع متنازعہ بھوج شالہ کمپلیس کو دیوی سرسوتی کے مندر کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی شواہد اور دستیاب دستاویزات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مقام قدیم زمانے میں سنسکرت تعلیم کا مرکز اور ہندو عبادت گاہ تھا۔ عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی مشورہ دیا کہ مسلم فریق اگر چاہے تو حکومت سے مسجد کی تعمیر کے لیے الگ زمین حاصل کرسکتا ہے۔

وہیں مسلم فریق نے مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے فیصلہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ مسلم فریق نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا۔

دھار شہر کے قاضی وقار صادق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور سپریم کورٹ میں اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔‘‘

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے جج جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تاریخی ادب، آثارِ قدیمہ کے شواہد اور دستیاب مواد سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ متنازعہ مقام پر قدیم دور میں دیوی سرسوتی کا مندر اور سنسکرت تعلیم کا مرکز موجود تھا۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہندوؤں کی پوجا کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، اس لیے ان کے مذہبی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ فیصلے میں بابری مسجد اور ایودھیا تنازعہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

قابلِ ذکر بات یہ رہی کہ جس وقت بھوج شالہ احاطہ میں مسلم فریق نمازِ جمعہ ادا کر رہا تھا، اسی دوران عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا۔ اس منظر نے پورے معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔ فیصلے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کردی گئی اور انتظامیہ کو الرٹ پر رکھا گیا۔

یہ تنازعہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ 7 اپریل 2003 کو Archaeological Survey of India (اے ایس آئی) نے ایک حکم جاری کرتے ہوئے ہندوؤں کو ہر منگل پوجا اور مسلمانوں کو ہر جمعہ نماز ادا کرنے کی اجازت دی تھی۔ بعد ازاں ہندو فریق نے اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے مکمل عبادتی حقوق کا مطالبہ کیا۔

عدالت میں پیش کی گئی اے ایس آئی کی دو ہزار صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ موجودہ ڈھانچے سے قبل یہاں پرمار خاندان کے دور کی ایک عظیم الشان عمارت موجود تھی۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ متنازعہ عمارت کی تعمیر میں قدیم مندر کے اجزاء اور ستون استعمال کیے گئے۔

ہائی کورٹ نے 12 مئی کو تمام فریقین کی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے اب سنایا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایک بار پھر ملک میں مذہبی مقامات اور تاریخی تنازعات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ مسلم تنظیمیں اس معاملے کو آئینی اور قانونی سطح پر سپریم کورٹ میں اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں