حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ملک میں بابری مسجد مقدمہ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ دھار ضلع میں واقع تاریخی کمال مولیٰ مسجد، جسے ہندو تنظیمیں ’’بھوج شالہ‘‘ قرار دیتی رہی ہیں، کو عدالت نے دیوی سرسوتی کا مندر تسلیم کرتے ہوئے مسلمانوں کے نماز کے حق کو عملاً ختم کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں ایک نئی قانونی، سیاسی اور مذہبی بحث نے جنم لیا ہے، جبکہ مسلم حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں ہندو فریق کی عرضیوں کو قبول کرتے ہوئے 2003ء میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی جانب سے جاری اُس انتظامی حکم کو بھی منسوخ کر دیا جس کے تحت ہندوؤں کو منگل کے دن پوجا اور مسلمانوں کو جمعہ کے دن نماز کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ مسلمان اگر چاہیں تو حکومت سے کسی اور مقام پر مسجد کی تعمیر کیلئے زمین طلب کر سکتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس نے ناقدین کو بابری مسجد فیصلے کی یاد دلائی، جہاں متنازع مقام ہندو فریق کے حوالے کرتے ہوئے مسلمانوں کو متبادل زمین دینے کی بات کی گئی تھی۔
کمال مولیٰ مسجد یا بھوج شالہ؟ تاریخ کیا کہتی ہے؟
دھار کی یہ تاریخی عمارت صدیوں سے تنازع کا مرکز رہی ہے۔ مسلم مؤرخین اور تاریخی حوالوں کے مطابق سلطان علاؤالدین خلجی نے 1205ء میں مالوہ فتح کرنے کے بعد حضرت مولانا کمال الدین چشتیؒ کی نسبت سے اس مقام پر ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کروائی، جو 1207ء میں مکمل ہوئی۔ بعد میں مالوہ کے صوبیدار دلاور غوری نے اس کی مرمت کروائی۔ بعض ہندو حلقے اس مقام کو ’’راجہ بھوج کی سنسکرت پاٹھ شالہ‘‘ قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اسے بعد میں مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔
یہ تنازع صرف ہندو اور مسلم دعووں تک محدود نہیں رہا، بلکہ جین برادری نے بھی اس عمارت پر دعویٰ کیا۔ جین فریق کا کہنا تھا کہ یہاں سے ملنے والی بعض مورتیاں ان کی دیوی امبیکا سے مشابہت رکھتی ہیں، تاہم اس دعوے پر زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
مسلم فریق کے دلائل کیا تھے؟
مسلم فریق، خصوصاً مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ مسجد کم از کم چار سو برس سے عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے اور اس کی مذہبی حیثیت تبدیل کرنا آئینی اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ مسلمانوں نے 1935ء کے اُس گزٹ نوٹیفکیشن کو بھی عدالت میں پیش کیا جس میں اُس وقت کی دھار ریاست نے اس عمارت کو مسجد تسلیم کرتے ہوئے مسلمانوں کے نماز کے حق کو باضابطہ طور پر قبول کیا تھا۔ مسلم فریق کا کہنا تھا کہ اس نوٹیفکیشن کو کبھی منسوخ نہیں کیا گیا۔
مسلمانوں نے یہ بھی استدلال کیا کہ محکمۂ آثارِ قدیمہ کی سائنسی جانچ یکطرفہ تھی اور اس میں ایسے شواہد کو اہمیت دی گئی جو صرف ہندو فریق کے دعوے کو مضبوط کرتے تھے۔ ان کے مطابق تاریخی ریکارڈ میں کہیں بھی کسی سرسوتی مندر کی تباہی کا واضح ذکر نہیں ملتا۔ وضو کیلئے موجود پانی کے حوض کو بھی مسجد کے استعمال کا ثبوت قرار دیا گیا۔
ہندو فریق نے کیا مؤقف اپنایا؟
ہندو فریق نے دعویٰ کیا کہ یہ مقام ابتدا سے ہی دیوی سرسوتی کے مندر اور سنسکرت تعلیم کے مرکز کے طور پر قائم تھا۔ ان کا زیادہ تر انحصار اے ایس آئی کی تقریباً دو ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ پر تھا، جس میں کہا گیا کہ کھدائی کے دوران 97 ہندو مورتیاں، سکے اور ستون برآمد ہوئے۔ ہندو فریق کا کہنا تھا کہ ہندو عبادت کا سلسلہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور 2003ء کا انتظامی حکم ان کے حقوق محدود کرنے کے مترادف تھا۔
عدالت نے کیا کہا؟
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ تاریخی لٹریچر اور دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مقام راجہ بھوج سے منسلک تھا اور سنسکرت تعلیم کے مرکز کے طور پر استعمال ہوتا تھا، جو دیوی سرسوتی کیلئے وقف ایک مندر کے وجود کی نشاندہی کرتا ہے۔ عدالت نے اس مقام پر ہندو عبادت کے تسلسل کو بھی اہم بنیاد بنایا۔
اسد الدین اویسی کا سخت ردعمل
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’بابری مسجد فیصلے کا چربہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے سپریم کورٹ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے گی اور آئینی انصاف فراہم کرے گی۔
مستقبل کے اثرات: کیا ایک نیا باب کھل گیا؟
ماہرین قانون اور سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر تاریخی عبادت گاہوں کی مذہبی شناخت صدیوں بعد آثارِ قدیمہ یا تاریخی تعبیرات کی بنیاد پر تبدیل کی جانے لگے تو ملک میں کئی دیگر متنازع مذہبی مقامات پر نئے مقدمات کھل سکتے ہیں۔
اس فیصلے نے ایک مرتبہ پھر 1991ء کے عبادت گاہوں سے متعلق قانون (Places of Worship Act) پر بھی بحث چھیڑ دی ہے، جس کا مقصد 15 اگست 1947ء کے وقت موجود مذہبی حیثیت کو برقرار رکھنا تھا۔ اگرچہ ہندو فریق اس مقام کو ایک تاریخی استثنا قرار دیتا ہے، لیکن مسلم تنظیمیں اسے آئینی تحفظات کیلئے خطرہ تصور کر رہی ہیں۔
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ معاملہ اب سپریم کورٹ تک جائے گا، جہاں نہ صرف آثارِ قدیمہ کے شواہد بلکہ مذہبی آزادی، تاریخی تسلسل اور آئینی اصولوں پر بھی بڑی بحث متوقع ہے۔ اسی لیے بہت سے مبصرین اس مقدمے کو ’’ایک اور بابری‘‘ قرار دے رہے ہیں، جو آنے والے برسوں میں ہندوستان کی مذہبی اور قانونی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے۔


