حیدرآباد (دکن فائلز) غزہ سٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران کم از کم 7 فلسطینی شہید اور تقریباً 50 افراد زخمی ہوگئے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے اہم رہنما عزالدین الحداد کو نشانہ بنایا گیا، تاہم حماس کی جانب سے تاحال ان کی شہادت یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے بیان کے مطابق یہ کارروائی حماس کے سینئر ترین فوجی رہنما کے خلاف کی گئی۔ اسرائیلی حکام کا الزام ہے کہ عزالدین الحداد 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے اہم منصوبہ سازوں میں شامل تھے اور اسرائیل کے سب سے مطلوب افراد میں شمار کیے جاتے تھے۔
غزہ کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق حملہ غزہ سٹی کے الرمل علاقے میں ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا، جس کے بعد قریبی سڑک پر موجود ایک گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ الشفا اسپتال کے حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ کارروائی کامیاب رہی، لیکن عالمی خبر رساں اداروں نے واضح کیا ہے کہ آزادانہ طور پر عزالدین الحداد کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اکتوبر 2025 سے غزہ میں جنگ بندی نافذ بتائی جا رہی ہے، مگر اس کے باوجود اسرائیلی حملوں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 850 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔


