حیدرآباد (دکن فائلز) جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں گائے کے نام پر ہجومی تشدد، نفرت کی سیاست اور بے قصور افراد کے قتل کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گائے کے تحفظ سے متعلق قانون پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے تو اس مسئلہ کا مستقل حل نکل سکتا ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اکثریتی طبقہ گائے کو مقدس مانتا ہے، اس لیے حکومت کو واضح فیصلہ کرنا چاہیے تاکہ مذہب کے نام پر سیاست اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا سلسلہ ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ بعض ریاستوں میں گائے کا گوشت کھلے عام فروخت ہوتا ہے، لیکن وہاں تشدد نہیں ہوتا، جبکہ مسلم آبادی والے علاقوں میں اس موضوع کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق مختلف ریاستوں میں الگ الگ پالیسیوں کے بجائے یکساں ضابطہ ہونا چاہیے۔
ارشد مدنی نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ گائے کو ملک کا ’’قومی جانور‘‘ قرار دیا جائے تاکہ گائے کے نام پر ہونے والے تشدد، نفرت اور ہجومی حملوں کو روکا جا سکے۔ ان کے بیان نے ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ہندوستان میں گائے کو ہندو برادری انتہائی مقدس مانتی ہے اور مسلمان بھی ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت گائے کو قومی جانور قرار دے دے تو اس سے نہ صرف گائے کا تحفظ ہوگا بلکہ انسانوں کی جانیں بھی بچائی جا سکیں گی۔
انہوں نے گائے کے نام پر ہونے والے تشدد اور ماب لنچنگ کے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ مولانا مدنی نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی جذبات کے احترام کے ساتھ ملک میں امن و امان برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ مولانا ارشد مدنی اس سے قبل بھی گائے کو قومی جانور قرار دینے کی حمایت کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے فرقہ وارانہ کشیدگی کم کرنے اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔


