غزہ کی ماؤں کے صبر کی ایک اور داستان: “اسرائیلی سفاکیت نے میرے 4 بیٹے اور 5 پوتے پوتیاں چھین لیے، مگر ہمارے حوصلے آج بھی زندہ ہیں” — اہلیہ خلیل الحیہ

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) غزہ کی خاک آج بھی اپنے شہیدوں کے خون سے تر ہے، مگر اس سرزمین کی مائیں اب بھی صبر، استقامت اور قربانی کی وہ لازوال داستانیں رقم کر رہی ہیں جنہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ ایسی ہی ایک عظیم ماں اور بہادر خاتون ہیں امل الحیہ، جنہوں نے قابض اسرائیلی بربریت میں اپنے چار جوان بیٹے، پانچ پوتے پوتیاں اور خاندان کے بے شمار افراد کھو دیے، مگر ان کی زبان پر آج بھی شکوہ نہیں بلکہ صبر، شکر اور فلسطین سے وفاداری کے الفاظ ہیں۔

غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سربراہ خلیل الحیہ کی اہلیہ محترمہ امل الحیہ نے الجزیرہ لائیو کو دیے گئے ایک دردناک انٹرویو میں اپنی زندگی کے وہ زخم بیان کیے جنہیں سن کر انسانیت بھی تڑپ اٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی جارحیت نے ان کے خاندان کے چراغ ایک ایک کر کے گل کر دیے، مگر ان کے بچوں نے غزہ چھوڑنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی۔

انہوں نے بتایا کہ سنہ 2008ء میں ان کا بیٹا حمزہ اسرائیلی بمباری میں شہید ہوا۔ اس کے بعد سنہ 2014ء کی جنگ میں ان کا بڑا بیٹا اسامہ اپنی اہلیہ ہالہ اور تین معصوم بچوں خلیل، حمزہ اور امامہ سمیت شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گیا۔ اس قیامت خیز حملے میں صرف دو بچے معجزانہ طور پر زندہ بچ سکے، جن میں پوتی امل اور پوتا عبد الرحمن شامل تھے۔

امل الحیہ نے روتے ہوئے بتایا کہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا، پورا خاندان روزے سے تھا اور ان کی پوتی امامہ گھر میں سورۂ البقرہ کی تلاوت کر رہی تھی کہ اچانک اسرائیلی میزائل گھر پر آ گرا۔ چند لمحوں میں خوشیوں سے بھرا گھر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ وہ خود بھی شدید زخمی حالت میں ملبے تلے دب گئیں، مگر جب باہر نکالی گئیں تو معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا، بہو اور تین معصوم پوتے پوتیاں شہید ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “مجھے پہلے ہی لمحے محسوس ہو گیا تھا کہ اس وحشیانہ حملے میں کوئی زندہ نہیں بچا ہوگا۔”

ان کے دکھوں کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ گزشتہ برس ان کا ایک اور بیٹا ہمام اس وقت شہید ہو گیا جب قابض اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس رہنماؤں کے ایک اجلاس کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح ان کا بیٹا عزام بھی حالیہ جنگ میں شہادت کے رتبے پر فائز ہو گیا، جبکہ تیسرا بیٹا عز الدین شدید زخمی حالت میں زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کی ایک ٹانگ کٹ چکی ہے اور وہ اپنے دو بیٹوں خلیل اور محمد کی شہادت کا غم بھی اٹھا رہا ہے۔

محترمہ امل نے انکشاف کیا کہ ہمام، عزام اور عز الدین تینوں جڑواں بھائی تھے۔ انہوں نے کہا کہ “میرے تینوں بیٹے ایک ساتھ پیدا ہوئے تھے، مگر جنگ نے میرے دو بیٹوں کو مجھ سے چھین لیا اور تیسرا شدید زخمی ہے۔” انہوں نے بتایا کہ عزام کی تکلیف انہیں اندر سے توڑ دیتی تھی کیونکہ غزہ کے محاصرے میں عام درد کش ادویات تک دستیاب نہیں تھیں۔ انہوں نے انتہائی رنجیدہ لہجے میں کہا: “میں نے اللہ سے دعا کی کہ میرے بیٹے کو شہادت دے دے، معذوری نہیں… میں اسے اس اذیت میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔”

امل الحیہ نے کہا کہ وہ اپنے کسی بھی شہید بیٹے کا آخری دیدار نہ کر سکیں، مگر اللہ نے انہیں ایسا صبر عطا کیا کہ جب ہمام کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے شکر ادا کیا، اور جب اسامہ اور عزام کی شہادت کی اطلاع ملی تو وہ سجدۂ شکر میں گر گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹوں نے کئی بار غزہ چھوڑنے کے مواقع ہونے کے باوجود ہجرت سے انکار کیا۔ ان کے مطابق ان کے بیٹے کہتے تھے کہ “ہم اپنے لوگوں کو جنگ میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔”

محترمہ امل نے بتایا کہ ان کا بیٹا ہمام حافظِ قرآن اور مسجد کا امام تھا۔ دوحہ میں اپنے نومولود بچے کا عقیقہ کرنے سے بھی اس نے انکار کر دیا کیونکہ غزہ کے لوگ مصیبت میں تھے۔ یہاں تک کہ اس نے جنگ کے دوران عید کی قربانی بھی نہیں کی تاکہ وہ اپنے عوام کے غم میں شریک رہ سکے۔

انہوں نے ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ جنگ سے قبل ان کے بیٹوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی تھی تاکہ فیصلہ ہو سکے کہ والدین کے ساتھ قطر کون جائے گا۔ اس قرعے میں ہمام کا نام نکلا، مگر وہ غزہ چھوڑنے پر بہت رویا کیونکہ اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہنے کی سعادت سے محروم ہو جائے گا۔

امل الحیہ نے بتایا کہ ان کا خاندان برسوں تک غزہ کے مشرقی علاقے شجاعیہ میں سرحد کے قریب رہا، جہاں اسرائیلی ٹینک بعض اوقات گھروں کے دروازوں تک پہنچ جاتے تھے۔ خوف، نقل مکانی، بمباری اور مسلسل دھمکیوں نے ان کی زندگی کو کبھی سکون سے آشنا نہیں ہونے دیا۔

انہوں نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا کہ حماس رہنماؤں کے بچے آرام و آسائش کی زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: “قائدین کے بچوں کو فوجیوں کے پیچھے نہیں بلکہ ان کے آگے ہونا چاہیے۔ میرے بیٹوں نے وہی بھوک، خوف، ہجرت اور بمباری دیکھی جو غزہ کے ہر عام فلسطینی کا مقدر ہے۔”

امل الحیہ کے مطابق ان کے خاندان نے اب تک 17 شہداء پیش کیے ہیں۔ ان کی بہن کے دو بیٹے بھی شہید ہو چکے ہیں جبکہ کئی رشتہ دار اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے غزہ کو “اجتماعی قبرستان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ سرحد کھلنے کے بعد وہ دوبارہ غزہ جائیں، اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے پر کھڑی ہوں اور اپنے شہیدوں کی روحوں کو سلام پیش کریں۔

آخر میں انہوں نے اہلِ غزہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام نے ایسی قربانیاں دی ہیں جن کا بوجھ پہاڑ بھی نہیں اٹھا سکتے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ فلسطینیوں کو فتح عطا فرمائے، غزہ کا محاصرہ ختم ہو اور اس مظلوم سرزمین کے زخم مندمل ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں