عیدالاضحیٰ سے قبل بنگال میں قربانی کے قواعد برقرار، کلکتہ ہائی کورٹ نے عرضیاں مسترد کردیں

حیدرآباد (دکن فائلز) عیدالاضحیٰ (بقرعید) سے قبل مغربی بنگال میں جانوروں کی قربانی سے متعلق سخت قواعد پر جاری تنازعہ کے درمیان کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کے نئے ضوابط کے خلاف دائر متعدد عرضیوں کو مسترد کرتے ہوئے ان قواعد پر روک لگانے سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت کا حالیہ نوٹیفکیشن دراصل 2018 کے عدالتی احکامات پر مبنی ہے، اس لیے فی الحال اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔

ریاستی حکومت نے 13 مئی کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت کسی بھی جانور — بشمول گائے، بیل، بھینس اور بچھڑوں — کے ذبیحہ کے لیے مجاز مقامی ادارے اور سرکاری ویٹرنری سرجن کی جانب سے ’’فٹ فار سلاٹر‘‘ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق صرف وہی جانور قربانی کے لیے منظور کیے جائیں گے جو 14 سال سے زیادہ عمر کے ہوں یا بیماری، چوٹ یا کمزوری کے باعث مستقل طور پر ناکارہ ہوچکے ہوں۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجئے پال کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ ضوابط کوئی نئی قانون سازی نہیں بلکہ 2018 میں دی گئی عدالتی ہدایات کا تسلسل ہیں، جنہیں پہلے کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ بھی ہدایت دی کہ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر شامل کیا جائے کہ کھلے عوامی مقامات پر جانوروں کے ذبیحہ کی اجازت نہیں ہوگی۔

عدالت نے سماعت کے دوران یہ تبصرہ بھی کیا کہ اسلام میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر گائے کی قربانی لازمی مذہبی فریضہ نہیں ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے پرانے فیصلے ’’حنیف قریشی کیس‘‘ کا حوالہ دیا۔

درخواست گزاروں، جن میں بعض مسلم تنظیموں کے نمائندے اور سیاسی شخصیات بھی شامل تھیں، نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نئے قواعد قربانی کے عمل کو حد درجہ مشکل بنا دیں گے اور دیہی معیشت و مویشی تجارت کو شدید متاثر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بقرعید کے موقع پر خصوصی رعایت دی جانی چاہیے تاکہ مذہبی فریضہ آسانی سے ادا کیا جاسکے۔

ریاستی حکومت، کولکاتا میونسپل کارپوریشن اور پولیس حکام نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ ان قواعد کا مقصد غیر قانونی ذبیحہ، مویشی اسمگلنگ اور غیر مجاز مذبح خانوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ ضوابط تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہوں گے اور ان کا مقصد کسی خاص مذہب یا طبقہ کو نشانہ بنانا نہیں۔

دوسری جانب کولکاتا اور دیگر علاقوں کے متعدد ائمہ اور مسلم رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ قربانی کے دوران حکومتی قوانین کی پابندی کی جائے اور امن و امان کو برقرار رکھا جائے۔ کئی علماء نے بکرے اور دنبے کی قربانی کو ترجیح دینے کا مشورہ بھی دیا ہے تاکہ کسی قسم کے تنازع سے بچا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں