حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) حج 2026 کے عظیم اجتماع سے قبل سعودی موسمیاتی مرکز نے شدید گرمی، گرد آلود طوفانوں اور ہیٹ ویو کے خطرات کے پیش نظر اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق رواں سال حج کے دوران درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ سکتا ہے، جبکہ تیز ہواؤں اور گرد کے طوفانوں کے باعث عازمینِ حج کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سعودی نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی نے پیش گوئی کی ہے کہ مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ سمیت مقدس مقامات پر درجہ حرارت 45 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ بعض علاقوں میں شدید گرم اور خشک ہوائیں چلنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
سعودی وزارتِ حج و عمرہ اور وزارتِ صحت نے عازمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ دھوپ میں غیر ضروری پیدل سفر سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، چھتری یا ٹوپی کا استعمال کریں اور ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہنیں۔ حکام نے خاص طور پر ضعیف، بیمار اور بچوں کے ساتھ آنے والے افراد کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
عازمینِ حج کے لیے خصوصی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حاجی حضرات مسلسل پانی اور ORS کا استعمال کریں، رش والی جگہوں پر احتیاط برتیں اور کسی بھی طبی تکلیف کی صورت میں فوری طور پر میڈیکل مراکز سے رجوع کریں۔
سعودی حکام کے مطابق مقدس مقامات پر لاکھوں عازمین کی سہولت کے لیے اضافی کولنگ سسٹم، پانی کی فراہمی، سایہ دار راستے اور طبی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ مسجد الحرام اور دیگر مقامات پر ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ شدید موسمی حالات کے باوجود عازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔


