“الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے”؟ بنڈی سنجے کا کانگریس اور اے آئی ایم آئی ایم پر ووٹر لسٹ سے ہندوؤں کے نام ہٹانے کا الزام، خود بی جے پی پر اپوزیشن نے ایس آئی آر کو سیاسی ہتھیار بنانے کا الزام عائد کردیا

حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اور بی جے پی کے سینئر رہنما بنڈی سنجے کمار نے تلنگانہ میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کو لے کر کانگریس حکومت اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت مبینہ طور پر ہندو ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے ہٹانے کے لیے ایس آئی آر کا غلط استعمال کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے کانگریس اور اے آئی ایم آئی ایم ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔

جگتیال ضلع کے دیسائی پیٹ گاؤں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ نچلی سطح کے سرکاری ملازمین ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن اعلیٰ حکام اور ریاستی حکومت انہیں مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کر رہی۔ ان کا الزام تھا کہ ہندو اکثریتی علاقوں میں گھر گھر جا کر مؤثر تصدیق نہیں کی جا رہی، اس لیے ہندو ووٹروں کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض شہری علاقوں میں مبینہ طور پر روہنگیا دراندازوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اے آئی ایم آئی ایم اس کی مخالفت کر رہی ہے جبکہ کانگریس بھی اس کی حمایت کر رہی ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

بنڈی سنجے نے ریاستی حکومت کی مالی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، آروگیہ شری ادائیگیوں، فیس ری ایمبرسمنٹ اور ٹھیکیداروں کے بلوں میں تاخیر حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے سابق بی آر ایس حکومت اور موجودہ کانگریس حکومت دونوں پر بدعنوانی اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات بھی عائد کیے۔

بنڈی سنجے کے یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایس آئی آر کے عمل پر خود بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اپوزیشن اتحاد انڈیا، متعدد مسلم تنظیمیں اور کئی سماجی حلقے پہلے ہی الزام لگا چکے ہیں کہ ایس آئی آر کے ذریعے لاکھوں ووٹروں، بالخصوص مسلمانوں اور دیگر کمزور طبقات، کو انتخابی فہرستوں سے خارج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس معاملے پر سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔

سیاسی حلقوں میں بنڈی سنجے کے بیانات کو “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” کے مصداق قرار دیا جارہا اور کہا جارہا ہے کہ ایک طرف بی جے پی پر مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کے ذریعے ووٹر لسٹوں میں مبینہ مداخلت کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہی جماعت اب تلنگانہ میں کانگریس پر اسی نوعیت کے الزامات لگا رہی ہے۔

فی الحال بنڈی سنجے کے ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے، جبکہ کانگریس اور اے آئی ایم آئی ایم کی جانب سے بھی ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔ اس لیے ان الزامات کو تاحال سیاسی دعووں کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں