“لبیک اللہم لبیک”: مناسکِ حج 2026 کا آغاز، لاکھوں عازمین خیموں کے شہر منیٰ پہنچنے لگے

حیدرآباد (دکن فائلز) سعودی عرب میں حج 2026 کے مقدس مناسک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عازمینِ حج خیموں کے شہر منیٰ پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ ہندوستان سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام “لبیک اللہم لبیک” کی صدائیں بلند کرتے ہوئے روحانی سفر کے پہلے مرحلے میں منیٰ کی جانب رواں دواں ہیں۔

8 ذی الحجہ، جسے “یوم الترویہ” کہا جاتا ہے، کے موقع پر عازمینِ حج منیٰ میں قیام کریں گے جہاں وہ نمازِ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر ادا کریں گے۔ بعد ازاں کل 9 ذی الحجہ کو نمازِ فجر کے بعد میدانِ عرفات روانہ ہوں گے جہاں حج کا سب سے اہم رکن “وقوفِ عرفہ” ادا کیا جائے گا۔

سعودی حکام کے مطابق منیٰ پہنچنے کا عمل مرحلہ وار جاری ہے اور لاکھوں حجاج کی نقل و حرکت کو منظم بنانے کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ، سیکیورٹی اور رہنمائی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ مختلف راستوں پر سیکیورٹی اہلکار، رضاکار اور ہلالِ احمر کی ٹیمیں تعینات ہیں تاکہ عازمین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سعودی محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ حج کے دوران مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات پر شدید گرمی پڑ سکتی ہے جبکہ درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب 40 فیصد تک رہنے اور بعض کھلے علاقوں میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا بھی خدشہ ہے۔

شدید موسم کے پیشِ نظر سعودی حکومت نے حجاج کی سہولت کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں جدید کولنگ سسٹم، مسٹ فین، پانی کی پھوار دینے والے پنکھے، سایہ دار راستے اور اضافی شیڈز نصب کیے گئے ہیں۔ میدانِ عرفات اور مسجد نمرہ کے اطراف شجر کاری کے منصوبے بھی مکمل کیے گئے ہیں تاکہ ماحول کو نسبتاً ٹھنڈا رکھا جا سکے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق حکام نے عازمینِ حج کو ہدایت کی ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں پانی استعمال کریں، دھوپ میں غیر ضروری پیدل چلنے سے گریز کریں، چھتری کا استعمال کریں اور رہنما حفاظتی اصولوں پر مکمل عمل کریں تاکہ گرمی سے پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں سے محفوظ رہا جا سکے۔

سعودی حکام کے مطابق جمعہ کی دوپہر تک بیرونِ ملک سے آنے والے حجاج کی تعداد 15 لاکھ 18 ہزار سے تجاوز کر چکی تھی، جن میں سے تقریباً 14 لاکھ 57 ہزار عازمین فضائی راستے سے سعودی عرب پہنچے۔ رواں برس مجموعی طور پر تقریباً اٹھارہ لاکھ عازمینِ حج کی شرکت متوقع ہے۔

حج انتظامات کے سلسلے میں سعودی حکومت نے طبی سہولیات میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ مقدس مقامات پر موبائل کلینکس، ایمبولینس سروسز، ایمرجنسی میڈیکل ٹیمیں اور مختلف زبانوں میں رہنمائی فراہم کرنے والے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ وزارتِ صحت کی جانب سے آگاہی پمفلٹس بھی تقسیم کیے جا رہے ہیں تاکہ حجاج کو گرمی، ہجوم اور دیگر حالات سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر سے آگاہ رکھا جا سکے۔

ادھر مکہ مکرمہ کے مقامی شہری اور رضاکار بھی حجاج کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ منیٰ جانے والے راستوں پر عازمین میں ٹھنڈا پانی، جوس اور کھانے کی اشیاء تقسیم کی جا رہی ہیں۔ دنیا بھر سے آئے مسلمانوں کے اس عظیم اجتماع میں بھائی چارے، ایثار اور خدمتِ خلق کے مناظر نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں