اللہ اکبر کی صداؤں سے محبت! اذان سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے والے اٹلی شہری محمد لوقا حج کی ادائیگی میں مصروف

حیدرآباد (دکن فائلز) خیموں کے شہر منیٰ میں لاکھوں فرزندانِ توحید کے درمیان ایک چہرہ ایسا بھی موجود ہے جس کی داستانِ ایمان دلوں کو چھو لینے والی ہے۔ یہ کہانی اٹلی سے تعلق رکھنے والے نومسلم حاجی محمد لوقا کی ہے، جن کے دل میں اسلام کی شمع کسی عالم یا کتاب نے نہیں بلکہ مسجدوں کے میناروں سے بلند ہونے والی اذان کی پُرسوز صدا نے روشن کی۔

محمد لوقا آج سرزمینِ مقدس پر موجود ہیں، جہاں وہ شوق و عقیدت کے ساتھ مناسکِ حج ادا کر رہے ہیں۔ مگر ان کا یہ سفر اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ برسوں کی جستجو، غور و فکر اور روحانی کشش کا نتیجہ ہے۔

محمد لوقا کے مطابق انہوں نے پہلی مرتبہ صرف 12 سال کی عمر میں ٹی وی پر اذان کی آواز سنی تھی۔ اس وقت شاید وہ اس راز سے واقف نہ تھے کہ یہ چند الفاظ ان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیں گے۔ اذان کی وہ روحانی صدا ان کے دل میں اس طرح اتر گئی کہ وقت گزرنے کے باوجود اس کی تاثیر ختم نہ ہو سکی۔ وہ کہتے ہیں کہ اذان کی آواز میں ایک عجیب سکون، اپنائیت اور رب کی طرف بلانے والی ایسی کشش تھی جس نے ان کے دل کو بے قرار کر دیا۔

یہ محض ایک آواز نہیں تھی بلکہ ہدایت کا ایک خاموش پیغام تھا۔ اذان نے انہیں نماز کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اسلام کو سمجھنے، اس کے عقائد پر غور کرنے اور اس کی حقیقت جاننے کی جستجو بھی عطا کی۔ چنانچہ انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا، قرآن کریم کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کی اور دیگر مذاہب کے مقابلے میں اسلام کی تعلیمات کا گہرا جائزہ لیا۔

محمد لوقا کہتے ہیں کہ اسلام کو سمجھنے کا یہ سفر کئی برسوں پر محیط رہا۔ اس دوران انہیں احساس ہوا کہ اسلام محض چند رسومات کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو روشنی دینے والا مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ مذہب کو روایت کے طور پر اختیار کرتے ہیں، مگر انہوں نے اسلام کو شعوری طور پر اپنایا، کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی اسی راستے میں ہے۔

بالآخر وہ لمحہ آیا جب محمد لوقا نے دل کی گہرائی سے کلمۂ حق قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ ان کے بقول:

“اسلام نے مجھے ایک نئی زندگی عطا کی۔ میرے اندر سکون پیدا ہوا، دل کی بے چینی ختم ہوگئی، زندگی اور موت کے بارے میں میرا تصور بدل گیا، اور مجھے اپنی زندگی کا مقصد سمجھ میں آ گیا۔”

وہ کہتے ہیں کہ اسلام نے انہیں صرف روحانی سکون ہی نہیں دیا بلکہ ایک نئی عزت، اعتماد اور باطنی اطمینان بھی عطا کیا۔ ماضی کی الجھنیں اور بے یقینی ختم ہوگئی اور دل اللہ کی یاد سے آباد ہوگیا۔

محمد لوقا اس وقت حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں اور ان کے لیے یہ لمحے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب حرمین شریفین کے میناروں سے اذان کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور چاروں طرف “لبیک اللہم لبیک” کی گونج سنائی دیتی ہے تو انسان اپنے رب کے بے حد قریب محسوس کرتا ہے۔ منیٰ کے خیمے، عرفات کی دعائیں، مزدلفہ کی رات اور بیت اللہ کا طواف ان کے لیے ایک ایسی روحانی کیفیت بن چکے ہیں جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے سعودی عرب کے انتظامات اور حجاج کے ساتھ کیے جانے والے احترام و اکرام کی بھی تعریف کی اور کہا کہ حرمین شریفین کی خدمت کے لیے کیے جانے والے انتظامات نے ان کے دل میں مملکتِ سعودی عرب کے لیے احترام مزید بڑھا دیا ہے۔

محمد لوقا کی داستان اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور ہے، جو کبھی ایک آیت، کبھی ایک کردار اور کبھی صرف اذان کی ایک صدا کے ذریعے دلوں میں اتر جاتا ہے۔ ایک غیر مسلم بچے کے کانوں میں گونجنے والی اذان آخرکار اسے بیت اللہ کے دروازے تک لے آئی، جہاں آج وہ لاکھوں مسلمانوں کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں