غزہ کے معصوم بچوں کا خون پکار اٹھا: اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں اسرائیل پر فلسطینی بچوں کی نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت سوز مظالم کے سنگین الزامات

حیدرآباد (دکن فائلز) جنگوں اور تنازعات کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا باب ہو جس میں معصوم بچوں نے اتنی بڑی قیمت ادا کی ہو جتنی آج غزہ کے فلسطینی بچے ادا کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی تازہ رپورٹ نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور سیکیورٹی فورسز نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہوئیں اور ایسے اقدامات سامنے آئے جنہیں کمیشن نے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں شمار کیا ہے۔

کمیشن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 7 اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 20 ہزار 179 فلسطینی بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ 44 ہزار سے زائد بچے زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعداد مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً 30 فیصد بنتی ہے، جو کسی بھی جدید تنازعے میں بچوں کے خلاف تشدد کی ہولناک ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔

تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ سرینیواسن مرلی دھر نے کہا کہ دستیاب شواہد اس نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فلسطینی بچوں کو محض جنگ کا ضمنی نقصان نہیں بلکہ دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے گنجان آبادی والے علاقوں میں بھاری تباہ کن ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھا، حالانکہ اسے بخوبی علم تھا کہ ان حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بچے اور دیگر عام شہری بنیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے بچوں سے صرف ان کی زندگیاں ہی نہیں چھینی گئیں بلکہ ان کا بچپن، ان کے خواب، ان کا مستقبل اور ان کی امیدیں بھی ملبے تلے دفن کر دی گئیں۔ ہزاروں بچے ایسے ہیں جو اپنے والدین، بہن بھائیوں اور پورے خاندانوں سے محروم ہو گئے، جبکہ بے شمار بچے مستقل معذوری، نفسیاتی صدمات اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے کمیشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ غزہ میں مسلسل بمباری، جبری نقل مکانی، خوراک اور ادویات کی فراہمی میں رکاوٹیں، اور انسانی امداد پر پابندیوں نے بچوں کی زندگیوں کو ناقابلِ تصور مشکلات سے دوچار کر دیا۔ بھوک، بیماری اور علاج کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نومولود بچوں کی بقا، زچہ و بچہ صحت کی سہولتیں اور بنیادی طبی نظام شدید متاثر ہوا، جبکہ تقریباً ہر فلسطینی بچہ کسی نہ کسی سطح پر نفسیاتی معاونت کا محتاج بن چکا ہے۔

رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں بھی فلسطینی بچوں کے خلاف تشدد، گرفتاریوں، بدسلوکی اور مبینہ جنسی تشدد کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ حراست کے دوران بچوں کو تشدد، تذلیل، خوراک سے محرومی اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، جو بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں پیش کیے گئے شواہد فلسطینی بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی سنگینی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں۔ وزارت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی بچوں کے قتل، بھوک، جبری بے دخلی، تشدد اور بنیادی حقوق سے محرومی کے ذمہ دار عناصر کو جوابدہ بنایا جائے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے جانبدارانہ اور ہتک آمیز قرار دیا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے متعدد ادارے اور بین الاقوامی تنظیمیں عرصۂ دراز سے غزہ میں عام شہریوں، بالخصوص بچوں، پر پڑنے والے تباہ کن اثرات پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری فلسطینی بچوں کے تحفظ، انسانی جانوں کے احترام اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے اصولوں پر سنجیدگی سے عمل درآمد چاہتی ہے تو غزہ کے المیے کو محض اعداد و شمار کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسانی سانحے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ہزاروں معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع پوری انسانیت کے ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان ہے، اور فلسطینی عوام کے بنیادی انسانی و قومی حقوق کا منصفانہ حل ہی خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں