’مجھے صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا‘! 20 جولائی کے مظاہرین کے سنگین الزامات، راہل گاندھی کے سامنے پولیس پر امتیازی سلوک کا دعویٰ (ویڈیو ضرور دیکھیں)

حیدرآباد(دکن فائلز) 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران احتجاج میں شریک نوجوانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے کارروائی کے دوران مسلم نام رکھنے والے مظاہرین کو خاص طور پر نشانہ بنایا، ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا اور متعدد زخمی مظاہرین کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کیا۔ یہ دعوے بدھ کے روز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی موجودگی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سامنے آئے، جنہیں دی ٹیلیگراف نے تفصیل سے شائع کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون مظاہرہ کرنے والی، فرح ناز، نے دعویٰ کیا کہ وہ جنتر منتر پر پرامن احتجاج میں شریک تھیں، لیکن پولیس نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، بس میں بٹھا کر کئی گھنٹے روکے رکھا اور بعد میں ان کا نام پوچھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنا نام “فرح ناز” بتایا تو مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے کہا کہ “ان لوگوں کے لیے الگ فہرست بنائی جائے گی کیونکہ یہ غدار ہیں۔”

فرح ناز نے کہا کہ انہیں صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات انہیں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتے۔ پریس کانفرنس میں شریک ایک اور طالبہ مسکان شرما نے الزام لگایا کہ وہ پرامن انداز میں چل رہی تھیں، لیکن ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکاروں نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک مرد اہلکار نے خواتین سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نامناسب انداز میں ان پر لاٹھی استعمال کرنے کی کوشش کی۔

مسکان شرما نے کہا کہ چونکہ ان کا پہلا نام “مسکان” ہے، اس لیے بہت سے لوگ انہیں مسلمان سمجھ کر سوشل میڈیا پر مزید نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی حکومت پر تنقید کرے تو اسے فوراً “مسلمان” اور پھر “ملک مخالف” قرار دینے کا بیانیہ فروغ دیا جا رہا ہے۔

راہل گاندھی نے اس موقع پر کہا کہ احتجاج کرنے والے نوجوان تشدد نہیں کر رہے تھے، اس کے باوجود ان پر طاقت کا استعمال کیا گیا، انہیں دھمکایا گیا اور بعض کے گھروں پر جا کر مبینہ طور پر معافی نامے لکھوائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کم عمر طالبات سے بھی اس طرح معافی لینا ناقابل قبول ہے۔

مہاراشٹر کے ناگپور سے تعلق رکھنے والے بھارت بنائیت نے دعویٰ کیا کہ زخمی مظاہرین کو اسپتال لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی روکا گیا اور بعض زخمیوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ جھارکھنڈ کی نوتن ٹوپو نے بھی پولیس کارروائی کے دوران اپنے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا۔

واضح رہے کہ یہ تمام الزامات مظاہرین اور راہل گاندھی کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان دعوؤں پر متعلقہ حکام کا تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں