’اگر مدارس میں مکمل ‘وندے ماترم’ پڑھا جائے تو آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا‘! کلکتہ ہائی کورٹ کا متنازعہ ریمارک

حیدرآباد (دکن فائلز) کلکتہ ہائی کورٹ نے مدارس میں قومی نغمہ “وندے ماترم” کی تمام چھ بندوں کی ادائیگی سے متعلق ایک اہم سماعت کے دوران ریمارک دیا کہ اگر مدارس میں مکمل “وندے ماترم” پڑھا جائے تو “آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔” یہ ریمارک ایک عوامی مفاد کی عرضی کی سماعت کے دوران سامنے آیا، جس میں مدارس میں مکمل قومی نغمہ گانے سے متعلق حکومتی ہدایت کو چیلنج کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس تپبرتا چکرورتی اور جسٹس پارتھا سارتھی سین پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران سوال اٹھایا کہ اگر قومی نغمے کے تمام بند مدارس میں پڑھے جائیں تو اس میں اعتراض کی کیا وجہ ہے، اور اس سے کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔

یہ مقدمہ اس حکومتی ہدایت کے خلاف دائر کیا گیا ہے جس کے تحت مدارس سمیت تعلیمی اداروں میں مکمل “وندے ماترم” گانے کی شرط عائد کیے جانے پر اعتراض کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے کے آئینی، مذہبی اور تعلیمی پہلوؤں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس مرحلے پر اس نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا بلکہ صرف ابتدائی ریمارکس کیے ہیں۔ مقدمے کی مزید سماعت آئندہ بھی جاری رہے گی اور تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت مناسب فیصلہ صادر کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق اس معاملے نے مغربی بنگال سمیت ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک جانب اسے قومی یکجہتی سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب بعض حلقے اسے مذہبی آزادی اور اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی حقوق کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ عدالت کا حتمی فیصلہ آنے تک اس معاملے پر قانونی بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں