’پاسپورٹ نہیں، بی جے پی کارڈ شہریت کا ثبوت؟‘ مودی حکومت پر اسدالدین اویسی کا زبردست طنز

حیدرآباد (دکن فائلز) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے پاسپورٹ اور شہریت سے متعلق جاری تنازع پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ کہتی ہے کہ پاسپورٹ بھی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں، تو یہ عوام میں غیر ضروری الجھن پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو شاید مستقبل میں صرف بی جے پی کی رکنیت کا کارڈ رکھنے والوں کو ہی ہندوستانی شہری تسلیم کیا جائے گا۔** انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ بی جے پی کے رکنیتی کارڈ کی تصاویر بھی شیئر کیں اور حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ دنیا بھر میں کسی بھی شہری کی شناخت اور اس کی قومیت کی اہم ترین سرکاری دستاویزات میں شمار ہوتا ہے۔ اگر حکومت خود اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا رہی ہے تو عام شہری آخر اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے کس دستاویز پر انحصار کریں؟

اویسی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران شناختی دستاویزات اور شہریت سے متعلق قوانین اور طریقہ کار میں بار بار تبدیلیوں کے باعث عوام ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو اپنے ہی ملک میں بار بار اپنی شہریت ثابت کرنے پر مجبور کرنا افسوسناک صورتحال ہے۔

انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ شہریت جیسے حساس مسئلے کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کیا جائے بلکہ عوام کے خدشات کو دور کرنے کے لیے واضح اور شفاف موقف اختیار کیا جائے۔ اویسی نے زور دے کر کہا کہ شہریت ہر ہندوستانی کا بنیادی آئینی حق ہے اور اس معاملے میں غیر یقینی کیفیت پیدا کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں