امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارت خانے کی تعمیر کا معاہدہ کر لیا! عالم اسلام میں تشویش کی لہر

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں اپنے مستقل سفارت خانے کی تعمیر کے لیے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد عالم اسلام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس اقدام کو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ فلسطینی مسئلے کے تناظر میں اس فیصلے پر نئی بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ میں منعقدہ دستخطی تقریب کے دوران اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ امریکہ نہ صرف یروشلم کو یہودی عوام کا ابدی، اصل اور مستقل دارالحکومت تسلیم کرتا ہے بلکہ اس موقف کو عملی شکل دینے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ جنوبی یروشلم کے ایلنبی کمپاؤنڈ میں ایک نیا، جدید اور مستقل سفارت خانہ تعمیر کرے گا، جہاں امریکی پرچم ہمیشہ لہرائے گا اور یہی کمپاؤنڈ اسرائیل میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کا مرکزی ہیڈکوارٹر ہوگا۔

مائیک ہکابی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھی ایک پیغام میں کہا کہ جس طرح امریکہ اسرائیل کے لیے انتہائی اہم ہے، اسی طرح اسرائیل بھی امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں اس کے مفادات کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے کہا کہ مستقل امریکی سفارت خانے کی تعمیر کا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور تاریخی اتحاد کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 2017 میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ ایک تاریخی اقدام تھا، جبکہ موجودہ معاہدہ اس فیصلے کو مزید مستحکم اور مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی دور میں دسمبر 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر فلسطینی قیادت، عرب ممالک اور عالمی برادری کے ایک بڑے حصے نے شدید اعتراض کیا تھا۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق مشرقی القدس کو مقبوضہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ فلسطینی قیادت مشرقی القدس کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک اب بھی اپنے سفارت خانے تل ابیب میں قائم رکھے ہوئے ہیں اور القدس کی حتمی حیثیت کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات سے مشروط قرار دیتے ہیں۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل حالیہ مہینوں میں ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں میں ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں۔ اگرچہ بعض میڈیا رپورٹس میں ایران سے متعلق پالیسی پر صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم مستقل سفارت خانے کی تعمیر کا یہ معاہدہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات بدستور مضبوط ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں