نظام آباد کے بعد اب حیدرآباد پرانے شہر میں بھی بی جے پی کارکنوں کی غنڈہ گردی؟ لڑکیوں کے کالج میں زبردستی داخل، کانگریس حکومت اور تلنگانہ پولیس کے رویہ پر مسلمانوں میں تشویش کی لہر

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں حالیہ دنوں پیش آنے والے فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات کے درمیان ایک اور متنازع واقعہ سامنے آنے کے بعد مسلم حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ حیدرآباد کے پرانے شہر میں عیدی بازار میں واقع نوریہ کوآپریٹو جونیئر کالج میں بی جے پی لیڈر رامولو یادو اور ان کے ساتھ آئے متعدد کارکنوں کے مبینہ طور پر بغیر اجازت داخل ہونے، غیرقانونی طور پر طالبات کے تعلیمی ریکارڈ طلب کرنے اور کالج انتظامیہ کو ہراساں کرنے کے الزام نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

کالج کے پرنسپل محمد غیاث الدین نے سنتوش نگر پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تقریباً 30 سے 40 افراد کالج کے دفتر میں داخل ہوئے، عملے کو دھمکایا، طلبہ کا خفیہ ریکارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا اور ویڈیو ریکارڈنگ کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ کالج غیر قانونی طلبہ کو داخلہ دے رہا ہے۔ کالج انتظامیہ نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ تمام داخلے تلنگانہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کے قواعد کے مطابق کیے گئے ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ریاست میں مختلف فرقہ وارانہ نوعیت کے معاملات پر پہلے ہی سیاسی کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ مسلم تنظیموں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی تعلیمی ادارے کے بارے میں کوئی شکایت یا شبہ موجود تھا تو اس کی جانچ متعلقہ سرکاری محکمے، محکمہ تعلیم یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کرتے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کے کارکن خود جا کر ادارے میں داخل ہوتے اور ریکارڈ طلب کرتے۔

واقعے کے بعد ایک اہم سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ایک بڑی تعداد میں سیاسی کارکن ایک تعلیمی ادارے تک پہنچ کر اس نوعیت کی کارروائی کرتے ہیں تو مقامی پولیس اور انٹیلی جنس محکمہ کیا کررہا تھا؟ شکایت درج ہونے کے باوجود اب تک ایف آئی آر درج نہ ہونے کی اطلاعات پر بھی مختلف حلقے سوال اٹھا رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان نے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اس قسم کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق کسی سیاسی جماعت یا فرد کو طلبہ کے خفیہ ریکارڈ کی جانچ یا ادارے کی تفتیش کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر تقریباً پچاس افراد مختلف پولیس حدود عبور کرکے کالج تک پہنچ سکتے ہیں تو متعلقہ ادارے کہاں تھے اور بروقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

مسلم سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی دوسرے تعلیمی ادارے یا طبقے کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آتا تو پولیس کا ردعمل شاید مختلف ہوتا۔ ان کے مطابق ایسے واقعات کے بعد فوری اور غیر جانبدارانہ قانونی کارروائی نہ ہونے کا تاثر عوام میں بے چینی پیدا کر رہا ہے۔ تاہم اس بارے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پولیس نے تاحال واقعے کی تحقیقات مکمل نہیں کی ہیں اور نہ ہی عدالت کی جانب سے کسی فریق کے مؤقف کی توثیق یا تردید ہوئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ریاست میں حالیہ عرصے کے دوران فرقہ وارانہ حساس نوعیت کے متعدد واقعات کے بعد حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کی یکساں عملداری کو یقینی بنائے، تعلیمی اداروں کو سیاسی دباؤ اور غیر مجاز مداخلت سے محفوظ رکھے، اور اگر کسی بھی شخص یا گروہ نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا ہے تو اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے اور ریاست کا امن و امان متاثر نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں