حیدرآباد (دکن فائلز) غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کو ایک ہزار دن مکمل ہونے کے موقع پر جاری ہونے والی متعدد سرکاری اور تحقیقی رپورٹس نے اس المیے کو انسانی تاریخ کی بدترین تباہ کاریوں میں شمار کیا ہے۔ مرکز برائے فلسطینی سیاسی مطالعہ، غزہ کی وزارتِ صحت، وزارتِ سماجی ترقی، وزارتِ تعلیم اور حکومتی میڈیا آفس کی رپورٹس کے مطابق یہ جنگ صرف ایک فوجی تصادم نہیں رہی بلکہ ایک منظم نسل کشی، جبری نقل مکانی، بھوک، تباہی اور اجتماعی سزا کی ایسی مثال بن چکی ہے جس نے پوری فلسطینی قوم کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
ایک ہزار دن… تباہی، خون اور بے بسی کی داستان
مطالعے میں کہا گیا ہے کہ سات اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی حملوں نے غزہ کو ایک ایسے انسانی سانحے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں رہائشی علاقے، اسپتال، اسکول، جامعات، عبادت گاہیں، پانی اور بجلی کے نظام، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ نے فلسطینی معاشرے کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے اور بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور عالمی اداروں کی ساکھ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
73 ہزار سے زائد شہداء، ہزاروں لاپتہ، لاکھوں زخمی
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق ایک ہزار دنوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 9500 افراد اب بھی لاپتہ ہیں یا ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 73 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں ہزاروں افراد مستقل معذوری کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان میں ہزاروں ایسے بھی ہیں جن کے ہاتھ، پاؤں یا دیگر اعضا کٹ چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں اپنی بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔
سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ شہداء میں 21 ہزار 500 سے زائد بچے اور 12 ہزار 500 سے زائد خواتین شامل ہیں۔ ایک ہزار سے زیادہ ایسے شیر خوار بچے بھی شہید ہوئے جنہوں نے اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیں دیکھی، جبکہ سینکڑوں بچے ایسے تھے جو جنگ کے دوران پیدا ہوئے اور چند ہی دنوں بعد اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن گئے۔
ہزاروں بچے یتیم، خواتین بیوہ، خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے
وزارتِ سماجی ترقی کے مطابق جنگ نے 75 ہزار سے زائد بچوں کو یتیم کر دیا ہے، جبکہ 45 ہزار خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔ تقریباً 68 ہزار افراد ایسے ہیں جو اپنے پورے خاندان میں اکیلے زندہ بچے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2700 سے زائد خاندان مکمل طور پر ختم ہو گئے اور ان کا نام سول رجسٹر سے بھی مٹ گیا۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ہزاروں اجڑے ہوئے گھروں، بکھرے خوابوں اور ختم ہوتی نسلوں کی داستان ہے۔
غزہ کی 80 فیصد آبادی بے گھر
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 80 فیصد سے زائد آبادی اپنے گھروں سے محروم ہو چکی ہے۔ لاکھوں افراد خیموں، اسکولوں اور عارضی پناہ گاہوں میں انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کئی خاندان کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں، جبکہ موسم کی شدت، خوراک کی قلت اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی نے ان کی مشکلات کئی گنا بڑھا دی ہیں۔
بھوک بھی جنگ کا ہتھیار بن گئی
رپورٹس میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے خوراک اور امداد کو بھی جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ سرحدوں کی بندش کے باعث لاکھوں افراد بنیادی غذائی اشیا سے محروم ہیں۔ چھ لاکھ پچاس ہزار سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ امدادی ٹرکوں کی آمد بھی ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ کمیونٹی کچن روزانہ صرف تین لاکھ افراد کے لیے کھانا فراہم کر پا رہے ہیں، حالانکہ ضرورت دس لاکھ افراد کی ہے۔
صحت اور تعلیم کا نظام مفلوج
اسرائیلی حملوں میں 38 اسپتال، 96 طبی مراکز، 197 ایمبولینسیں اور صحت کا بڑا ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً **1700 ڈاکٹرز اور طبی کارکن** شہید کیے جا چکے ہیں۔
تعلیمی شعبہ بھی شدید تباہی کا شکار ہے۔ تمام اسکول متاثر ہوئے، درجنوں جامعات تباہ کر دی گئیں، 20 ہزار سے زائد طلبہ اور 830 اساتذہ شہید ہو گئے، جبکہ چھ لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ وزارتِ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری بحالی نہ ہوئی تو پوری نسل کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔
عبادت گاہیں، قبرستان اور تہذیبی ورثہ بھی محفوظ نہ رہا
اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 1047 مساجد کو مکمل طور پر تباہ یا شدید نقصان پہنچایا گیا، متعدد گرجا گھر، قبرستان اور تاریخی مقامات بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ کئی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں اور سینکڑوں لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
عالمی اداروں کی خاموشی پر سوالات
مرکز برائے فلسطینی سیاسی مطالعہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ کی جنگ نے اقوام متحدہ، بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور دیگر عالمی اداروں کی مؤثریت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ مختلف قانونی کارروائیاں شروع ہوئیں، لیکن نہ جنگ رکی اور نہ ہی عام شہریوں کو مؤثر تحفظ مل سکا۔ رپورٹ میں دوہرے معیار اور بین الاقوامی قانون کے غیر مساوی نفاذ پر بھی سخت تنقید کی گئی ہے۔
فلسطینی قوم کا عزم سلام کے قابل
اس بے مثال تباہی کے باوجود فلسطینی عوام نے جس صبر، استقلال اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے، وہ پوری دنیا کے لیے مثال بن گیا ہے۔ مسلسل بمباری، بھوک، نقل مکانی اور اپنے عزیزوں کی شہادت کے باوجود غزہ کے عوام اپنی سرزمین، اپنی شناخت اور اپنے حقوق سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ والدین ملبے پر بیٹھ کر اپنے بچوں کو تعلیم دینے کی کوشش کر رہے ہیں، نوجوان امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ طبی عملہ انتہائی محدود وسائل کے باوجود انسانیت کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیلی بربریت پر عالمی ضمیر کے لیے ایک سوال
ان رپورٹس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار ایک ایسی انسانی المیے کی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں شہری آبادی، بچوں، خواتین، اسپتالوں، اسکولوں اور بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان واقعات پر مختلف قانونی اور انسانی خدشات بھی مسلسل سامنے آتے رہے ہیں۔ غزہ کے عوام آج بھی شدید مشکلات کے باوجود اپنے وجود، شناخت اور مستقبل کے لیے ثابت قدم ہیں، اور ان کی یہ استقامت اس بحران کی نمایاں انسانی حقیقتوں میں سے ایک ہے۔


