حیدرآباد (دکن فائلز) ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ دارالحکومت تہران میں ان کا جسدِ خاکی امام خمینی حسینیہ میں رکھا گیا ہے تاکہ عوام، سیاسی رہنما، مذہبی شخصیات اور غیر ملکی وفود انہیں آخری خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔ ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے جبکہ سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ایرانی حکومت کے مطابق جمعہ سے سرکاری تعزیتی تقریبات کا آغاز ہوگا، جن میں دنیا کے مختلف ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، اعلیٰ حکام اور مذہبی رہنما شریک ہوں گے۔ قومی انتظامی کمیٹی کے مطابق 90 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی تصدیق کی ہے جبکہ 30 سے زیادہ ممالک نے اعلیٰ سطحی وفود بھیجنے کی باضابطہ اطلاع دی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی رحلت پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک عہد کا اختتام ضرور ہے، لیکن ایرانی قوم اتحاد، استقامت اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جنازے اور تعزیتی تقریبات میں بھرپور شرکت کرکے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
سرکاری شیڈول کے مطابق ہفتہ کو مصلیٰ امام خمینی عوام کے لیے کھول دیا جائے گا تاکہ لاکھوں افراد آخری دیدار کر سکیں۔ اتوار کو نماز جنازہ ادا کی جائے گی جبکہ پیر کے روز تہران میں سرکاری جنازے کا عظیم الشان جلوس نکالا جائے گا۔ بعد ازاں جسدِ خاکی کو قم منتقل کیا جائے گا، جہاں مسجد جمکران میں خصوصی نماز جنازہ ادا ہوگی۔
اس کے بعد جسد خاکی عراق لے جانے کا بھی پروگرام ہے، جہاں نجف اور کربلا میں استقبالیہ اور تعزیتی جلوس منعقد ہوں گے۔ آخری مرحلے میں 9 جولائی کو آیت اللہ خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
ایرانی حکومت نے عوامی شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران میں متعدد روز عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، جبکہ مہرآباد اور مشہد کے ہوائی اڈوں پر بھی مخصوص دنوں میں پروازیں معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ غیر ملکی وفود کی آمدورفت اور سکیورٹی انتظامات میں سہولت رہے۔
تہران کے میئر علی رضا زاکانی نے کہا کہ جنازے کی رسومات میں تقریباً دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جس کے پیش نظر دارالحکومت میں وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق شدید گرمی کے باوجود طبی امداد، ٹریفک کنٹرول اور سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات بھی آخری رسومات کی تکمیل کے بعد دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔


