ایس آئی آر پر مسلمانوں کے خدشات صحیح ثابت ہونے لگے؟ بنگال حکومت نے ووٹر لسٹ اور شہریت کا حوالہ دیکر اناپورنا یوجنا (راشن کارڈ) کےلئے دی گئیں 26 لاکھ درخواستوں کو مسترد کردیا!

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے تناظر میں ایک متنازعہ پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے بعد ایس آئی آر کے ممکنہ اثرات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اناپورنا یوجنا کے تحت موصول ہونے والی تقریباً دو کروڑ درخواستوں میں سے 26 لاکھ درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جانچ پڑتال کے بعد کیا گیا، جبکہ ناقدین اسے ایس آئی آر کے ممکنہ نتائج سے جوڑ رہے ہیں۔

بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے کولکاتا کے نیتا جی انڈور اسٹیڈیم میں اناپورنا یوجنا کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ مسترد کیے گئے ناموں میں ایسے افراد شامل ہیں جو یا تو ہندوستانی شہری نہیں ہیں، انتخابی فہرست میں شامل نہیں، وفات پا چکے ہیں، دوسری جگہ منتقل ہو چکے ہیں یا ایک سے زائد کھاتوں سے سرکاری فوائد حاصل کر رہے تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد صرف مستحق افراد تک سرکاری امداد پہنچانا ہے اور عوامی خزانے کا غلط استعمال ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تین ہزار روپے کی امدادی رقم صرف مکمل جانچ کے بعد اہل مستحقین کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے تحت شہریت حاصل کرنے والے پناہ گزینوں کو اناپورنا یوجنا کا فائدہ بدستور ملتا رہے گا۔ اسی طرح جن افراد نے اپنی شہریت یا ووٹر حیثیت کے معاملے میں متعلقہ ٹریبونل سے رجوع کیا ہے، انہیں اس وقت تک سرکاری امداد ملتی رہے گی جب تک ٹریبونل ان کے خلاف کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کرتا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سابقہ حکومت پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ متعدد فلاحی اسکیموں میں بے ضابطگیاں موجود تھیں۔ ان کے مطابق ‘لکشمیر بھنڈر’ اسکیم میں بھی جانچ کے دوران ایسے معاملات سامنے آئے جہاں مردوں کے نام پر بھی امدادی رقوم جاری کی جا رہی تھیں، حالانکہ یہ اسکیم خواتین کے لیے متعارف کرائی گئی تھی۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور بعض سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کی بنیاد پر لوگوں کو سرکاری فلاحی اسکیموں سے محروم کیا جا رہا ہے تو اس سے عوام میں مزید خدشات پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق ایسے فیصلوں میں مکمل شفافیت اور متاثرہ افراد کو قانونی اپیل کا مؤثر موقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی اہل شہری کے حقوق متاثر نہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں