حیدرآباد میں مسلم خاتون سے ’یہ پاکستان نہیں۔۔‘ کہنے والے ٹریفک کانسٹیبل کے خلاف تحقیقات شروع! کیا سخت کاروائی ہوگی؟

حیدرآباد (دکن فائلز) سائبرآباد ٹریفک پولیس نے ایک ٹریفک کانسٹیبل کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس پر ایک خاتون سے بحث کے دوران مذہبی اور متنازع تبصرہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ گچی باؤلی–رائے درگم روڈ پر IKEA ایگزٹ کے قریب ایک پٹرول پمپ کے پاس پیش آیا۔

شکایت کے مطابق ایک مسلم خاتون اور ان کے بیٹے نے اپنی موٹر سائیکل دیگر گاڑیوں کے ساتھ بیریکیڈ کے پیچھے کھڑی کی تھی۔ واپس آنے پر انہوں نے ٹریفک کانسٹیبل جے ملیشم سے بیریکیڈ ہٹانے کی درخواست کی تاکہ وہ اپنی گاڑی نکال سکیں۔

الزام ہے کہ کانسٹیبل نے نہ صرف ایسا کرنے سے انکار کیا بلکہ انتہائی تذلیل آمیز لہجے میں کہا کہ “یہ پاکستان یا افغانستان نہیں ہے کہ جہاں چاہو گاڑی کھڑی کر دو۔”

متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ کانسٹیبل نے ان کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کیا اور پوری گفتگو اپنے ذاتی موبائل فون سے ریکارڈ بھی کی۔ اس واقعے کی شکایت موصول ہونے کے بعد سائبرآباد ٹریفک پولیس کے ڈی سی پی سائی منوہر نے تصدیق کی کہ معاملے کی محکمہ جاتی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ کی بنیاد پر متعلقہ اہلکار کے خلاف مناسب محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اگر شکایت درست ثابت ہوئی تو قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے اور متعدد افراد نے سرکاری اہلکاروں کے عوام سے برتاؤ پر سوالات اٹھائے ہیں۔

وہیں عوامی حلقوں میں پولیس کانسٹیبل کے ہندوتوا رویہ پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔ یونیفارم میں رہ کر ہندوتوا ذہنیت کے تحت مسلم خاتون کی تذلیل کرنا ناقابل معافی ہے۔ لوگوں نے حکومت اور محکمہ پولیس سے فرقہ پرست کانسٹیبل کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی صرف دکھاوا کیا جارہا ہے لیکن کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں