حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر حکومت نے طلبہ کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ریاست بھر کے اسکولوں کے 500 میٹر کے دائرے میں ’اسٹنگ‘ انرجی ڈرنک اور دیگر مضرِ صحت انرجی مشروبات کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت نے اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کے لیے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) حکام کو فوری ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ریاستی اسمبلی میں بی جے پی رکن اسمبلی وکرم پچپوٹے کے سوال کے جواب میں وزیر برائے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نرہری جروال نے بتایا کہ انرجی ڈرنکس میں موجود کیفین، چینی اور دیگر اجزا بچوں اور نوعمر طلبہ کی جسمانی و ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اسی لیے حکومت نے احتیاطی اقدام کے طور پر یہ پابندی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر نے کہا کہ اگر کسی اسکول کے احاطے یا اس کے 500 میٹر کے اندر اسٹنگ یا دیگر انرجی ڈرنکس اور نشہ آور اشیا فروخت ہوتی پائی گئیں تو متعلقہ افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
طبی ماہرین کے مطابق انرجی ڈرنکس کا مسلسل استعمال بچوں میں دل کی دھڑکن تیز ہونے، بے خوابی، ذہنی دباؤ، بے چینی، چڑچڑے پن اور توجہ میں کمی جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان خطرات سے طلبہ کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف پابندی کافی نہیں بلکہ آگاہی بھی ضروری ہے۔
اسی مقصد کے تحت ریاست بھر کے اسکولوں میں خصوصی بیداری پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن میں طلبہ اور والدین کو انرجی ڈرنکس کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے گا اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔
اسمبلی میں متعدد اراکین نے مطالبہ کیا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کو انرجی ڈرنکس کی فروخت پر مکمل پابندی کے لیے بھی قانون سازی کی جائے۔ حکومت نے اس تجویز پر بھی غور کرنے کا اشارہ دیا ہے۔


