گجرات اے ٹی ایس نے 8 مسلم نوجوانوں کو جیشِ محمد سے مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار کر لیا، الزامات تحقیقاتی مرحلے میں، عدالت میں جرم ثابت ہونے تک تمام قانوناً بے گناہ تصور کیے جائیں گے

حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے ایک کارروائی کے دوران آٹھ مسلم نوجوانوں کو کالعدم تنظیم جیشِ محمد سے مبینہ روابط رکھنے کے الزام میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ گرفتاریاں گجرات کے بناس کانٹھا، پاٹن، نوساری اور مدھیہ پردیش کے دیواس میں بیک وقت چھاپوں کے دوران عمل میں آئیں۔

اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد مبینہ طور پر گجرات میں ایک سلیپر سیل قائم کرنے اور تنظیم کے لیے معاون نیٹ ورک تیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ان کی عمریں 18 سے 40 سال کے درمیان ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے تنظیم کے نظریات کی تشہیر اور نئے افراد کو جوڑنے کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

تحقیقات کے دوران بعض گرفتار افراد کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ جامعہ ابوالحسن مدرسہ، صدی پور (پاٹن) اور جامعہ رحمانیہ، نوساری جیسے تعلیمی اداروں سے وابستہ تھے۔ تاہم ان اداروں یا گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات کی آزادانہ یا عدالتی سطح پر ابھی تک کوئی توثیق نہیں ہوئی ہے۔

گرفتار افراد میں احمد عبداللہ غازی والا عرف ابو عبیدہ، ابراہیم محمد حسین غاغا عرف ابو حمزہ، مدثر عبداللہ غازی والا عرف ابو آیا، ذکریا درانی محمد عمار غاغا عرف ابن عمار، مفتی فوجان اسماعیل عرف مفتی صاحب، محمد امین شیرا عرف امین پالن پوری، محمد عبدالرحمن سعودی عرف ابو یونسہ اور بلال درانی محمد عمار غاغا عرف ابو سفیان شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل آلات اور دیگر مواد برآمد کیا گیا ہے، جنہیں فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد 14 روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے اور ان کے خلاف یو اے پی اے اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ تمام الزامات تاحال صرف تحقیقاتی مرحلے میں ہیں اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک تمام گرفتار افراد قانوناً بے گناہ تصور کیے جائیں گے۔ بھارتی آئین اور فوجداری قانون کے مطابق محض گرفتاری یا پولیس کے الزامات کسی شخص کے مجرم ہونے کا ثبوت نہیں ہوتے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے شبہ میں سینکڑوں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا، ان کی گرفتاریوں کو میڈیا میں بڑے پیمانے پر نمایاں کیا گیا اور متعدد مواقع پر پولیس نے سنگین دعوے کیے۔ تاہم بعد ازاں مختلف عدالتوں نے شواہد کی کمی یا الزامات ثابت نہ ہونے کی بنیاد پر ان میں سے بڑی تعداد کو باعزت بری کر دیا، جبکہ صرف چند مقدمات میں ہی الزامات عدالت میں ثابت ہو سکے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں تفتیش مکمل ہونے اور عدالتی کارروائی انجام پانے سے قبل کسی بھی ملزم کو مجرم قرار دینا انصاف کے بنیادی اصولوں اور “جرم ثابت ہونے تک بے گناہی” کے آئینی تصور کے منافی ہے۔ اسی لیے موجودہ معاملے میں بھی حتمی حقیقت کا تعین صرف عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں