حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے 4 جولائی کو عوامی نمائندے کی حیثیت سے اپنی سیاسی زندگی کے 20 سال مکمل کر لیے۔ دو دہائیوں پر محیط ان کا سیاسی سفر ایک زیڈ پی ٹی سی آزاد امیدوار سے شروع ہوا اور آج وہ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے منصب تک پہنچ چکے ہیں۔
ریونت ریڈی نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 4 جولائی 2006 کو ضلع محبوب نگر کے میڑجل حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے ضلع پریشد علاقائی رکن (زیڈ پی ٹی سی) منتخب ہو کر کیا۔ اگرچہ وہ طالب علمی کے زمانے میں اے بی وی پی سے وابستہ رہے، لیکن اپنی پہلی عوامی کامیابی انہوں نے کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر نہیں بلکہ آزاد امیدوار کے طور پر حاصل کی۔
صرف ایک سال بعد وہ دوبارہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے لیے منتخب ہوئے، جس کے بعد ان کی سیاسی زندگی نے نئی کروٹ لی۔ بعد ازاں وہ تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) میں شامل ہوئے اور پارٹی کے سربراہ این چندرابابو نائیڈو کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے لگے۔
انہوں نے 2009 اور 2014 کے اسمبلی انتخابات میں کوڑنگل اسمبلی حلقے سے کامیابی حاصل کی اور ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں ٹی ڈی پی کے ورکنگ صدر بھی رہے۔ تاہم جیسے جیسے تلنگانہ میں ٹی ڈی پی کا سیاسی اثر کم ہوتا گیا، ریونت ریڈی نے 2017 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔
کانگریس میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے اُس وقت کی حکمراں جماعت بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) اور وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف جارحانہ سیاسی مہم چلائی، جس کے باعث وہ ریاستی سیاست میں کانگریس کا نمایاں چہرہ بن گئے۔
ان کے سیاسی سفر میں واحد انتخابی ناکامی 2018 کے اسمبلی انتخابات میں سامنے آئی جب وہ کوڑنگل سے شکست کھا گئے، تاہم انہوں نے جلد ہی واپسی کرتے ہوئے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ملکاجگیری سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہو کر اپنی سیاسی حیثیت دوبارہ مستحکم کر لی۔
سال 2021 میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) نے انہیں تلنگانہ کانگریس کا صدر مقرر کیا۔ ان کی قیادت میں کانگریس نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی اور 7 دسمبر 2023 کو وہ تلنگانہ کے دوسرے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
اپنی عوامی زندگی کے بیس سال مکمل ہونے پر ریونت ریڈی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک جذباتی پیغام جاری کیا۔ انہوں نے لکھا کہ یہ بیس سال ان کی زندگی کی ناقابلِ فراموش یاد ہیں اور میڑچل کے “ریونت ریڈی” سے عوام کے “ریونت انا” بننے تک کا سفر ان کے لیے ایک خاص باب ہے۔
انہوں نے اپنے تمام حامیوں، کارکنوں، دوستوں اور خیر خواہوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی محبت اور اعتماد ہی ان کی اصل طاقت ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ بھی تلنگانہ کی تعمیر و ترقی، عوامی امنگوں کی تکمیل اور عوامی خدمت کے لیے پوری لگن کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔
آزاد امیدوار سے وزیر اعلیٰ تک کا ریونت ریڈی کا سفر تلنگانہ کی سیاست میں ایک منفرد اور غیر معمولی مثال سمجھا جا رہا ہے۔


