حیدرآباد کے جل پلی میں مسلم نوجوان پر ہندوتوا شدشت پسندوں کا حملہ! خاندان کا الزام، ایم بی ٹی نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد شہر کے جل پلی روڈ پر واقع پہاڑی شریف پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک 24 سالہ مسلم نوجوان پر مبینہ حملے کے بعد علاقہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعہ میں زخمی ہونے والے نوجوان کی شناخت محمد محبوب (24) کے طور پر ہوئی ہے، جو اصل میں کرناٹک کے ضلع بھالکی کے رہنے والے ہیں اور اس وقت وادیِ مصطفیٰ، شاہین نگر میں مقیم ہیں۔

متاثرہ خاندان کے مطابق محمد محبوب اپنے دوست محمد خالد کے ساتھ جال پلی روڈ سے گزر رہے تھے کہ اسی دوران چند افراد نے ان پر حملہ کر دیا۔ خاندان اور مقامی ذرائع کا الزام ہے کہ حملہ آور ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ تھے۔

اہل خانہ کے مطابق حملے میں محمد محبوب کے سر، منہ، دانتوں اور آنکھوں پر شدید چوٹیں آئیں۔ سر پر گہری ضرب لگنے کے باعث وہ موقع پر ہی بے ہوش ہوگئے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر عثمانیہ جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کے سر پر چھ ٹانکے لگائے۔

خاندان کا کہنا ہے کہ اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد بھی ان کی طبیعت مسلسل بگڑتی رہی، جس کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے ریکوری اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملنے پر مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان ریکوری اسپتال پہنچے اور زخمی نوجوان و ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بالاپور اور پہاڑی شریف کے علاقوں میں مسلم نوجوانوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ تشویش ناک ہے۔

امجد اللہ خان نے کہا کہ اگر کسی بھی شہری پر مذہب کی بنیاد پر حملہ کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ شہر کے امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسے واقعات کے بعد اکثر اصل ملزمان کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی نہیں ہوتی، جس سے شرپسند عناصر کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔

ایم بی ٹی ترجمان نے حیدرآباد پولیس کمشنر وی سی سجنار سے مطالبہ کیا کہ وہ بالاپور اور پہاڑی شریف کے حساس علاقوں کا خود دورہ کریں، رات کے وقت پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے، سماج دشمن عناصر کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور تمام شہریوں، خصوصاً اقلیتی نوجوانوں، کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے واقعات کی بروقت روک تھام نہ کی گئی تو اس سے شہر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ پولیس کی جانب سے اس واقعے کی تفتیش جاری ہے۔ حملے کی نوعیت، اس کے محرکات اور ملزمان کی شناخت کے حوالے سے سرکاری تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی حقائق سامنے آئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں