حیدرآباد (دکن فائلز) کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک ایسے شخص کی ملک بدری پر عبوری روک لگا دی ہے جسے حکام نے مبینہ طور پر بنگلہ دیشی شہری قرار دے کر حراستی مرکز میں رکھا تھا، جبکہ اس شخص کا دعویٰ ہے کہ وہ پیدائشی ہندوستانی شہری ہے اور اسے غلط شناخت کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا۔
جسٹس ایس گووند راج نے درخواست گزار عبدالرحیم کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزار کی شناخت کی مکمل جانچ کرے اور یہ بھی واضح کرے کہ آیا وہی شخص ہے جس کے خلاف پہلے اتر پردیش میں غیر ملکی ہونے کا مقدمہ درج ہوا تھا، جو اس وقت الٰہ آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
عدالت نے آئندہ سماعت 14 جولائی تک عبدالرحیم کی ملک بدری پر روک برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ وہ 14 اپریل 1979 کو نئی سیما پوری، دہلی میں پیدا ہوئے اور پوری زندگی ہندوستان میں ہی گزار چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2014 میں دہلی سے بنگلورو منتقل ہوئے، جہاں وہ حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ ایک ویسٹ مینجمنٹ اور اسکریپ ٹریڈنگ کا کاروبار چلا رہے ہیں۔ ان کے پاس جی ایس ٹی رجسٹریشن بھی موجود ہے۔ عرضی کے مطابق 5 مارچ کو غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف چلائی گئی مہم کے دوران پراپنا اگراہارا پولیس نے عبدالرحیم کو حراست میں لیا اور بعد ازاں انہیں ایف آر آر او کے حوالے کر دیا۔
اسی روز ایف آر آر او نے انہیں بنگلہ دیشی شہری “محمد رحیم ” قرار دیتے ہوئے حراستی مرکز بھیجنے کا حکم جاری کر دیا۔ عبدالرحیم کے وکیل کلفٹن ڈی روزاریو نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل پیدائشی ہندوستانی شہری ہیں۔ اس دعوے کے ثبوت کے طور پر انہوں نے برتھ سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ، آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور خاندانی ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ایف آر آر او نے نہ تو کوئی مؤثر تحقیق کی اور نہ ہی عبدالرحیم کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا، جو آئین کے آرٹیکل 14، 21 اور 22 میں دیے گئے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
عرضی میں بتایا گیا کہ 2010 میں اتر پردیش میں ان کے خلاف فارنرز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا، جس میں 2012 میں سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے اس فیصلے کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جہاں اپیل منظور ہونے کے بعد انہیں ضمانت مل گئی تھی اور مقدمہ اب بھی زیر سماعت ہے۔
وکیل نے استدلال کیا کہ جب ایک مقدمہ پہلے ہی عدالت میں زیر غور ہے تو دوبارہ اسی بنیاد پر کارروائی کرنا دوہری قانونی کارروائی (Double Jeopardy) کے مترادف ہے۔ یہ مقدمہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں مسلمانوں کو غیر قانونی تارکین وطن قرار دینے کی ہندوتوا مہم جاری ہے اور غیرضروری ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز و شرانگیز کاروائی کی جارہی ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعدد وکلا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس مہم کے دوران بعض مقامات پر بنگالی بولنے والے غریب مسلمانوں سمیت ایسے ہندوستانی شہری بھی حراست میں لیے گئے ہیں جن کے پاس آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات موجود ہیں۔
عدالتوں نے متعدد مقدمات میں واضح کیا ہے کہ محض شبہ کی بنیاد پر کسی شخص کو ملک بدر نہیں کیا جا سکتا اور ہر معاملے میں قانون کے مطابق مکمل جانچ اور منصفانہ طریقۂ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔


