ایران۔امریکہ کشیدگی نئی خطرناک سطح پر، ہرمز کے معاملے پر جنگی ماحول؛ ٹرمپ کی سخت دھمکیاں، ایران کا دوٹوک جواب، حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری

حیدرآباد (دکن فائلز): مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جنگی کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں، سخت بیانات اور جوابی دھمکیوں نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

امریکی فوج نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر ایک اور بڑے فضائی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات کا خاتمہ اور ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔ دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہر حملے کا بھرپور جواب دے گا اور اگر اس کی خودمختاری کو مزید نشانہ بنایا گیا تو خطے میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

امریکی مرکزی کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق تازہ کارروائی میں ایران کے تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار، اینٹی شپ میزائل تنصیبات، ڈرون اور میزائل ذخائر، بحریہ کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر اور دیگر عسکری تنصیبات شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ ایران کی وہ صلاحیتیں نشانہ بنائی گئی ہیں جو بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ سمجھی جا رہی تھیں، جبکہ امریکی افواج آئندہ کسی بھی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بندر عباس، سیرک، کنارک، چابہار، بوشہر اور دیگر جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بعض مقامات پر بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی جبکہ ایک ریلوے پل کو بھی میزائل حملے میں نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔ ایرانشہر ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے حملے میں ایک فائر فائٹر کی ہلاکت بھی رپورٹ کی گئی ہے۔

ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق امریکی حملوں میں اب تک 14 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 78 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور مختلف اسپتالوں میں زخمیوں کا علاج جاری ہے۔

امریکی کارروائیوں کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بحرین، کویت اور قطر میں فضائی حملوں کے خدشات کے باعث خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ اگرچہ ان حملوں کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم خطے میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی عارضی مفاہمتی یادداشت (MOU) اور جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات “وقت کا ضیاع” ہیں اور اگر ایران نے دوبارہ امریکی مفادات یا جہازوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ 20 گنا زیادہ طاقت سے جواب دے گا۔ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ ایران کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا: “آؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔”

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تمام فیصلے صرف ایران کے قومی مفادات کے مطابق کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق ایران کسی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

کشیدگی بڑھنے کے ساتھ عالمی منڈیوں میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں خام تیل کی ترسیل کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی سے خام تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت، شپنگ، انشورنس اور مہنگائی پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، لیکن دونوں ممالک کی تازہ فوجی کارروائیوں اور سخت بیانات نے سفارتی عمل کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی، تجارت اور سلامتی کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں