حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی جانب سے مدارس کے حوالے سے دیے گئے متنازع بیان پر ملک بھر کی مسلم تنظیموں، دینی قیادت اور سیاسی رہنماؤں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نہ صرف تاریخ سے ناواقفیت بلکہ مدارس اور علمائے کرام کی عظیم خدمات کی توہین قرار دیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر و رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے الگ الگ بیانات میں کیشو پرساد موریہ کے ریمارکس کی سخت مذمت کی ہے۔
مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مدارس کو نشانہ بنانا دراصل اس عظیم تعلیمی اور دینی نظام کو بدنام کرنے کی کوشش ہے جس نے صدیوں سے ملک میں تعلیم، اخلاق، انسانیت اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس نے ہمیشہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ حب الوطنی، امن، بھائی چارے اور قومی خدمت کا درس دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ برصغیر کی تحریک آزادی میں مدارس اور علمائے کرام کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی سے لے کر آزادی ہند تک بے شمار علماء نے انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، کالاپانی کی سزائیں کاٹیں اور ہزاروں علماء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند سمیت متعدد دینی ادارے انگریز سامراج کے خلاف مزاحمت کے مراکز رہے، جبکہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا فضل حق خیرآبادی اور دیگر اکابر علماء نے آزادی کی تحریک میں تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھنا ان عظیم قربانیوں سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔
دوسری جانب اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی کیشو پرساد موریہ کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ مدارس کے خلاف بیان بازی دراصل سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس ملک کے آئین کے دائرے میں کام کرتے ہیں اور لاکھوں غریب بچوں کو مفت تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
اویسی نے کہا کہ اگر مدارس نہ ہوں تو غریب اور پسماندہ طبقے کے لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے خلاف نفرت پھیلانے کے بجائے حکومت کو تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مدارس کو مسلسل نشانہ بنانا ایک مخصوص طبقے کو بدنام کرنے کی منظم کوشش معلوم ہوتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء نے آزادی کی جدوجہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ملک کی آزادی کے لیے ہر قسم کی قربانیاں دیں۔
مسلم تنظیموں اور سماجی رہنماؤں نے بھی اس بیان پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کو بدنام کرنے کے بجائے ان کی تاریخی خدمات کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس صرف دینی تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ اخلاقی تربیت، سماجی خدمت اور قومی یکجہتی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1857 کی جنگ آزادی میں ہزاروں علماء نے انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کی، جن میں متعدد کو پھانسی دی گئی، کئی کو کالاپانی کی سزا سنائی گئی اور بے شمار علماء نے جیلوں میں برسوں گزارے۔ بعد ازاں تحریک خلافت، تحریک عدم تعاون اور تحریک آزادی کے مختلف مراحل میں بھی علمائے کرام صفِ اول میں رہے۔
مسلم قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مدارس کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرے، ملک کے آئینی و تعلیمی اداروں کا احترام کرے اور ایسے بیانات سے پرہیز کیا جائے جو سماجی ہم آہنگی کو متاثر کریں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کی خدمات اور علمائے کرام کی قربانیاں ہندوستان کی مشترکہ قومی تاریخ کا اہم باب ہیں، جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔


