حیدرآباد (دکن فائل) خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے حوالے سے ووٹروں میں پائی جانے والی تشویش کے درمیان دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ صرف اس وجہ سے کسی ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے خودکار طور پر خارج نہیں کیا جائے گا کہ اس کا نام 2002 کی ووٹر فہرست میں موجود نہیں تھا
یہ وضاحت خاص طور پر ان ووٹروں کے لیے اہم ہے جنہیں 2002 کی پرانی ووٹر فہرست میں اپنا نام یا اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کا نام تلاش کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ دہلی سی ای او کی جانب سے جاری سرکاری رہنما اصولوں کے مطابق، اگر موجودہ ووٹر کا نام 2002 کی ووٹر فہرست میں موجود نہیں ہے تو وہ اپنے والدین کے علاوہ دیگر متعلقہ خاندانی تفصیلات کے ذریعے اپنی سابقہ انتخابی حیثیت کا ریکارڈ فراہم کر سکتا ہے۔
سرکاری شیڈول میں واضح کیا گیا ہے کہ جو افراد 2002 کے بعد کسی دوسری ریاست سے دہلی منتقل ہو کر یہاں ووٹر بنے ہیں، ان کا نام دہلی کی 2002 کی فہرست میں ہونا ضروری نہیں۔ ایسے ووٹروں کو اپنی سابقہ ریاست کی متعلقہ آخری SIR فہرست، جو ریاست کے لحاظ سے 2002، 2003 یا 2005 کی ہو سکتی ہے، سے تفصیلات تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس پورے عمل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ ووٹر اپنا Enumeration Form ضرور جمع کرے۔ دہلی کے سرکاری رہنما اصولوں کے مطابق Enumeration Form کے مرحلے پر کوئی دستاویز جمع کرانا لازمی نہیں ہے۔ یعنی اگر کسی ووٹر کے پاس اس وقت اضافی دستاویزات موجود نہیں ہیں، تب بھی اسے SIR کے عمل سے باہر نہیں رہنا چاہیے۔
فارم میں موجودہ ووٹر کی بنیادی تفصیلات درج کی جاتی ہیں۔ موجودہ فارم میں آدھار نمبر اختیاری فیلڈ کے طور پر موجود ہے؛ لہٰذا جہاں متعلقہ فارم میں یہ سہولت موجود ہو، ووٹر اپنی آدھار اور دیگر ذاتی تفصیلات فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم **آدھار خود ہندوستانی شہریت کا ثبوت نہیں ہے اور اسے اسی حیثیت میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
اہم بات یہ ہے کہ دستاویز نہ ہونے کی وجہ سے SIR میں حصہ لینے سے گریز نہ کیا جائے۔ پہلے Enumeration Form جمع کرانا ضروری ہے، پھر اگر کسی معاملے میں مزید تصدیق درکار ہو تو انتخابی حکام کی جانب سے مقررہ طریقہ کار کے مطابق اضافی معلومات یا دستاویزات طلب کی جا سکتی ہیں۔
دہلی CEO کے سرکاری شیڈول کے مطابق اگر موجودہ ووٹر کا نام 2002 کی فہرست میں نہیں ہے لیکن اس کے والد یا والدہ کا نام اس فہرست میں موجود ہے تو Enumeration Form میں والدین کی متعلقہ تفصیلات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح 2002 کی فہرست میں نام تلاش کرنے کے لیے دہلی CEO کی ویب سائٹ پر پرانی انتخابی فہرست دستیاب کرائی گئی ہے، تاکہ شہری اپنے اور اپنے خاندان کے نام تلاش کر سکیں۔
ایس آئی آر کا عمل Enumeration Form جمع کرانے پر ختم نہیں ہوتا۔ سرکاری FAQ کے مطابق مسودہ انتخابی فہرست جاری ہونے کے بعد ہر ووٹر کو اپنا نام دوبارہ چیک کرنا چاہیے۔ اگر کسی اہل ووٹر کا نام مسودہ فہرست میں موجود نہ ہو تو مقررہ مدت میں دعویٰ اور اعتراض (Claims & Objections) کے ذریعے اپنا نام شامل کرانے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ نئے اہل ووٹر Form 6 کے ذریعے بھی اندراج کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
لہٰذا ووٹروں کے لیے سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ SIR کو نظر انداز نہ کریں۔ اگر 2002 کی فہرست میں اپنا نام نہیں مل رہا، والدین یا دیگر متعلقہ رشتہ داروں کا نام بھی تلاش نہیں ہو رہا، یا اس وقت آپ کے پاس مطلوبہ اضافی دستاویزات موجود نہیں ہیں، تب بھی پہلے مرحلے میں اپنے Enumeration Form کو درست معلومات کے ساتھ جمع کرائیں اور اس کی رسید/ریکارڈ محفوظ رکھیں۔
الیکشن کمیشن کے موجودہ سرکاری FAQ کے مطابق SIR کے دوران ووٹر کو اپنی موجودگی اور انتخابی اندراج کی تصدیق کا موقع ملتا ہے، جبکہ مسودہ فہرست کے بعد دعوے اور اعتراضات کے ذریعے نام شامل کرانے یا درست کرانے کا راستہ بھی موجود رہتا ہے۔
یعنی 2002 کی فہرست میں نام نہ ہونا آخری فیصلہ نہیں ہے؛ لیکن SIR میں اپنا Enumeration Form جمع نہ کرانا ووٹر کے لیے غیر ضروری مشکل ضرور پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے اہل ووٹر SIR میں ضرور حصہ لیں اور اپنی انتخابی تفصیلات درست طور پر درج کرائیں۔


