حیدرآباد (دکن فائلز) یومِ آزادی کے موقع پر اترپردیش کے گونڈا ضلع کے بابن جوت علاقے میں واقع ایک اسکول میں منعقدہ پروگرام کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تعلیمی حکام نے کارروائی کی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اسکول میں طالبات کو برقع پہنا کر فلمی گانوں پر رقص کرایا گیا، جس کے بعد محکمہ تعلیم کے حکام نے اسکول کا معائنہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ ادارہ سرکاری منظوری یا باقاعدہ شناخت کے بغیر چلایا جارہا تھا۔ مقامی تعلیمی افسر امیت کمار سنگھ کی ہدایت پر بلاک ایجوکیشن آفیسر ریاض احمد نے اسکول کا معائنہ کیا۔ ریاض احمد کے مطابق اسکول انتظامیہ کو تقریباً ایک ہفتہ قبل ہی ادارہ بند کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود اسکول میں سرگرمیاں جاری رکھی گئیں۔
معائنے کے بعد حکام نے اسکول کے مرکزی دروازے کو سیل کردیا، جبکہ منیجر اور پرنسپل کے دفاتر کو بھی بند کردیا گیا۔ معاملے کی اطلاع ضلعی تعلیمی حکام کو دے دی گئی، جبکہ وہاں زیر تعلیم بچوں کو قریبی سرکاری اور تسلیم شدہ اسکولوں میں داخل کرانے کا انتظام کیا گیا۔
اس واقعے کا ایک اہم پہلو برقع کے استعمال کا طریقہ ہے۔ برقع مسلم خواتین کے لیے محض ایک لباس یا تفریحی چیز نہیں بلکہ بہت سے مسلم معاشروں میں حیا، پردے، مذہبی وابستگی اور تہذیبی شناخت سے جڑا ہوا لباس ہے۔ اسے اپنی مذہبی شناخت اور عقیدے کے مطابق اختیار کرنا مسلم خواتین کا حق ہے۔
اسی لیے کسی مذہبی لباس کو محض مزاح، تماشے یا تفریح کے لیے استعمال کرنا، خصوصاً بچوں کے تعلیمی پروگرام میں، حساس معاملہ بن جاتا ہے۔ اگر کسی مذہبی علامت کو اس کے اصل احترام اور مفہوم سے ہٹ کر فلمی گانوں یا رقص کے پس منظر میں پیش کیا جائے تو اس سے متعلقہ مذہبی طبقے کے جذبات مجروح ہوسکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہندو طالبات نے برقعہ پہن کر ڈانس کیا تھا جبکہ ایسا ظاہر کیا گیا کہ یہ کوئی مسلم طالبات ہیں۔


