حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے موت کی سزا پر عمل درآمد کے لیے پھانسی کے موجودہ طریقے کو ختم کرکے اس کی جگہ کم تکلیف دہ متبادل طریقے اختیار کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فی الحال ہندوستان میں سزائے موت پر عمل درآمد **پھانسی کے ذریعے ہی جاری رہے گا**، تاہم اس معاملے کو مستقبل کے لیے مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا ہے۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے پھانسی کی جگہ مہلک انجیکشن، فائرنگ، بجلی کے جھٹکے یا گیس چیمبر جیسے متبادل طریقے اپنانے کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اس معاملے سے متعلق سابقہ تین فیصلوں کو بڑی بنچ کے سامنے بھیجنے کی درخواست بھی مسترد کردی۔
یہ درخواست وکیل رشی ملہوترا کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ موت کی سزا پانے والے شخص کو پھانسی دینے کے بجائے ایسا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے جس میں ممکنہ طور پر کم جسمانی تکلیف ہو اور سزا یافتہ شخص کی انسانی عظمت بھی برقرار رہے۔
درخواست میں پھانسی کو مبینہ طور پر انتہائی تکلیف دہ اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے تعزیراتی قانون کی دفعہ 354(5) کے تحت پھانسی کے ذریعے سزا دینے کے طریقے کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت باوقار موت کے حق کو بھی بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرنے کی اپیل کی تھی۔
درخواست میں پھانسی کے بجائے **مہلک انجیکشن، فائرنگ، برقی کرسی یا گیس چیمبر** جیسے طریقوں پر غور کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ درخواست گزار کی جانب سے یہ دلیل بھی دی گئی کہ بعض متبادل طریقوں میں موت کا عمل نسبتاً کم وقت میں مکمل ہوسکتا ہے، جبکہ پھانسی کے نتیجے میں موت کے اعلان تک زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ درخواست میں اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کا بھی حوالہ دیا گیا تھا جس میں سزائے موت پر عمل درآمد کے دوران ممکنہ حد تک کم تکلیف پہنچانے کی بات کہی گئی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ درخواست مسترد کیے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پھانسی کے طریقے سے متعلق آئینی بحث ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر مستقبل میں مضبوط **سائنسی، طبی یا تجرباتی شواہد** سامنے آتے ہیں اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ طریقے کے بارے میں سابقہ فیصلوں کی بنیاد رکھنے والے سائنسی حقائق میں نمایاں تبدیلی آچکی ہے تو معاملہ دوبارہ آئینی جانچ کے لیے سامنے آسکتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مرکزی حکومت چاہے تو موت کی سزا پر عمل درآمد کے متبادل طریقوں کا جامع جائزہ لینے کے لیے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے۔ یعنی عدالت نے موجودہ قانونی پوزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کے لیے یہ راستہ کھلا چھوڑا ہے کہ وہ سائنسی اور طبی ماہرین کی مدد سے متبادل طریقوں کا جائزہ لے۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آر وینکٹارمنی نے مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا تھا کہ حکومت نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اکتوبر 2025 میں سماعت کے دوران عدالت نے مرکز کے اس مؤقف پر سوال اٹھایا تھا کہ حکومت پھانسی کے موجودہ طریقے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آرہی۔ عدالت نے اس وقت یہ بھی مشاہدہ کیا تھا کہ یہ ایک پرانا طریقہ ہے اور وقت کے ساتھ حالات اور سائنسی ترقی تبدیل ہوچکی ہے۔
سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں موت کی سزا پر عمل درآمد کے لیے پھانسی کا موجودہ قانونی طریقہ فی الحال برقرار رہے گا۔ تاہم عدالت نے مستقبل میں نئے سائنسی شواہد سامنے آنے کی صورت میں اس معاملے پر دوبارہ غور کا امکان بھی برقرار رکھا ہے۔


