حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی سیاست میں مسلم شناخت اور دہشت گردی کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوششوں کے خلاف امریکی مسلم رہنما عبدل السید نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایک حالیہ ویڈیو میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ مسلمان ہیں، دہشت گرد نہیں۔
عبدالالسید کی یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشی گن میں امریکی سینیٹ کے لیے ان کی ڈیموکریٹک نامزدگی کے بعد ان کے خلاف مسلم مخالف بیان بازی میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ مشی گن سے امریکی سینیٹ کی نشست کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار نامزد ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے ہیں۔
ان کی سیاسی کامیابی نے امریکی سیاست میں مذہب، شناخت اور نمائندگی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم ان کی کامیابی کے بعد بعض دائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے انہیں اور دیگر مسلم سیاسی شخصیات کو قومی سلامتی کے تناظر میں مشکوک بنانے کی کوششوں پر بھی تنقید سامنے آئی ہے۔
عبدالالسید کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ کسی شخص کے مذہب کو اس کے کردار یا حب الوطنی کا پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ مسلمان ہونا کسی شخص کو دہشت گرد نہیں بناتا، جس طرح کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والا ہونا خود بخود اسے پرامن یا خطرناک ثابت نہیں کرتا۔
امریکی معاشرے میں مسلم مخالف بیانیہ کے بڑھنے پر شہری حقوق کے کارکنوں اور مسلم رہنماؤں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف کو مذہبی شناخت کے خلاف نفرت میں تبدیل کرنا معاشرے میں خوف اور تقسیم کو بڑھاتا ہے۔
عبدالالسید کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کو بھی بعض ذرائع نے مسلم مخالف جذبات کے وسیع تر رجحان سے جوڑا ہے۔ عبدال السید کا جواب محض ایک سیاسی ردعمل نہیں بلکہ اس بنیادی اصول کی یاد دہانی بھی ہے کہ جمہوریت میں کسی شہری کی شناخت، مذہب یا عقیدے کو اس کے خلاف تعصب کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔
*


