اکبر الدین اویسی کا انتخابی سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان؟ سیاسی حلقوں میں ہلچل

حیدرآباد (دکن فائلز) کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سینئر رہنما، تلنگانہ اسمبلی میں پارٹی کے فلور لیڈر اور چندرائن گٹہ سے مسلسل رکن اسمبلی (ایم ایل اے) اکبر الدین اویسی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ شاید آئندہ اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ ان کے اس غیر متوقع بیان نے تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد کے پرانے شہر کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ بات انہوں نے حیدرآباد کے علاقے بندلہ گوڑہ میں واقع فاطمہ کالج کے کیمپس میں طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی نشست اور تعلیمی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ طلبہ سے بات چیت کے دوران اپنی سیاسی مصروفیات اور مستقبل کا ذکر کرتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے کہاکہ “میری عمر ہو چکی ہے، اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں اگلا الیکشن لڑوں گا یا نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت میرے ذہن میں الیکشن لڑنے کا کوئی ارادہ یا سوچ تک نہیں ہے، میں الیکشن نہیں لڑوں گا۔”

پروگرام کے دوران انہوں نے اپنی تعلیمی قابلیت اور عملی سیاست کے کٹھن سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے طلبہ میں خود اعتمادی، لگن اور مسلسل جدوجہد کا جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہاکہ “اگرچہ میں نے صرف بارہویں جماعت (انٹر) تک ہی تعلیم حاصل کی ہے، لیکن عوامی زندگی اور سیاست میں اللہ کے فضل اور محنت سے آج اس مقام پر پہنچا ہوں کہ اسمبلی میں خود وزیر اعلیٰ کو بھی میری باتوں اور سوالوں کا جواب دینا پڑتا ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ ڈگریوں کے ساتھ ساتھ عزم، ہمت اور مقصد کے ساتھ جینا انسان کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ اگرچہ اکبر الدین اویسی کا یہ بیان ان کی ذاتی رائے اور موجودہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور پارٹی یا ان کی جانب سے انتخابی سیاست چھوڑنے کا کوئی باضابطہ یا حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن ان کے اس تبصرے نے مجلس کے کیڈرز اور سیاسی مبصرین کو چونکا دیا ہے۔

اکبر الدین اویسی 1999 سے لگاتار چندرائن گٹہ اسمبلی حلقے سے شاندار کامیابی حاصل کرتے آ رہے ہیں اور وہ ریاست میں مجلس اتحاد المسلمین کا ایک انتہائی اثر انگیز اور بے باک چہرہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد اب یہ قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ اگر وہ واقعی آئندہ انتخابات سے دستبردار ہو جاتے ہیں، تو چندرائن گٹہ کے تاریخی گڑھ سے ان کا سیاسی جانشین کون ہوگا اور مجلس اس اہم نشست پر کس نوجوان قیادت کو موقع دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں