وندے ماترم تنازعہ پر شرمیلا ٹیگور کا دوٹوک موقف! کہا ایک اللہ کی عبادت کرنے والے کبھی نہیں گا سکتے

حیدرآباد (دکن فائلز): قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ کو لے کر ملک میں جاری سیاسی اور سماجی بحث کے درمیان معروف اداکارہ شرمیلا ٹیگور نے کہا ہے کہ گیت کے صرف پہلے دو اشعار تک محدود رہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ گیت کے بعد کے حصوں میں متعدد دیوی دیوتاؤں کے حوالوں کی وجہ سے یک خدائی پر یقین رکھنے والی مذہبی برادریوں کے لیے اسے مکمل طور پر گانا مشکل ہوسکتا ہے۔

شرمیلا ٹیگور نے جمعرات کو ایک خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان مختلف مذاہب اور عقائد رکھنے والے لوگوں کا ملک ہے، اس لیے ایسے معاملات میں سب کے مذہبی جذبات کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق وندے ماترم کے پہلے دو اشعار میں مادرِ وطن کی خوبصورتی اور اس کی عظمت کا بیان ہے، جبکہ بعد کے اشعار میں مذہبی حوالوں کی نوعیت مختلف ہوجاتی ہے۔ اسی لیے وہ سمجھتی ہیں کہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے پہلے دو اشعار زیادہ موزوں ہیں۔

شرمیلا ٹیگور نے اپنی گفتگو میں بنیادی طور پر مذہبی ہم آہنگی اور سب کے جذبات کے احترام کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں، کسی بھی قومی علامت یا قومی سطح کے گیت سے متعلق معاملے میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کسی طبقے کو اپنے مذہبی عقائد کے خلاف جانے پر مجبور محسوس نہ ہو۔ یہ بحث خاص طور پر اس لیے اہم ہوگئی ہے کیونکہ وندے ماترم ہندوستان کا قومی گیت ہے، قومی ترانہ نہیں۔ ہندوستان کا قومی ترانہ ’’جن گن من‘‘ ہے۔

وندے ماترم کو قومی گیت کا درجہ حاصل ہے اور اس کے پہلے دو اشعار کو تاریخی طور پر وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا ہے۔ 1937 میں کانگریس کے اندر بھی پہلے دو اشعار کے استعمال پر اتفاق کیا گیا تھا، جبکہ گیت کے بعد کے حصوں میں مذہبی حوالوں کے باعث اختلافات سامنے آئے تھے۔ وندے ماترم کے مکمل یا محدود اشعار گانے کا معاملہ اب سیاسی بحث کا موضوع بھی بن چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں