حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے ضلع مئوگنج میں عید میلاد النبی ﷺ کی تیاریوں کے دوران ایک نوجوان کی جانب سے مبینہ طور پر چار افراد پر پٹرول چھڑک کر انہیں آگ لگانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی اور خوف کی کیفیت پیدا ہوگئی۔
یہ واقعہ پیر کی رات لور پولیس تھانے کے حدود میں واقع الہوا گاؤں میں پیش آیا۔ حملے میں چار افراد شدید جھلس گئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق گاؤں کے لوگ پیر کی رات جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ عید میلاد النبی ﷺ 26 اگست کو منایا جائے گا۔ اس موقع پر علاقے کو سجانے کے لیے پھولوں اور دیگر آرائشی سامان کا انتظام کیا جا رہا تھا۔
بھاسکر انگلش کی رپورٹ کے مطابق پڑوس میں رہنے والا ایک نوجوان، جس کی شناخت رام ریس جیسوال کے طور پر بتائی گئی ہے، مبینہ طور پر پٹرول سے بھری بوتل لے کر وہاں پہنچا۔ الزام ہے کہ نوجوان نے وہاں موجود چار افراد پر پٹرول چھڑکا اور لائٹر سے انہیں آگ لگا دی، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہوگیا۔
واقعے کے بعد وہاں افراتفری مچ گئی۔ آگ کی لپیٹ میں آنے والے افراد مدد کے لیے چیختے ہوئے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ شور سن کر مقامی افراد فوری طور پر موقع پر پہنچے، آگ بجھائی اور جھلسنے والے افراد کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا۔ زخمیوں میں سے ایک، اظہرالدین عرف راجو، کو شدید جھلسنے کے باعث ریوا کے سنجے گاندھی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے برن یونٹ میں داخل کیا گیا ہے۔
پولیس کے ایک سینئر افسر کے مطابق اظہرالدین کی حالت تشویش ناک ہے۔ دیگر زخمیوں میں محمد صدام، انور علی اور اظہرالدین کے بھائی عتیق احمد شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ان تینوں کو بھی آگ سے جھلسنے کے زخم آئے ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعہ کے بعد مبینہ ملزم رام ریس جیسوال موقع سے فرار ہوگیا۔ پولیس کو واقعہ کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد ملزم کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ واقعے میں چار افراد کو شدید نوعیت کے جھلسنے کے زخم آئے ہیں اور اظہرالدین کی حالت تشویش ناک ہے۔
زخمی اظہرالدین نے پولیس کو بتایا کہ جیسوال نے ان پر پٹرول چھڑکا اور انہیں آگ لگا دی۔ زخمی کے بھائی محمد صدام حسین نے بھی واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ عید میلاد النبی ﷺ کی تیاریوں میں مصروف تھے اور علاقے میں پھول اور دیگر آرائشی سامان لگا رہے تھے۔
ان کے مطابق اس وقت وہاں روشنی کا مناسب انتظام نہیں تھا۔ اسی دوران نوجوان اندھیرے میں پٹرول سے بھری بوتل لے کر آیا، اس نے ان پر پٹرول چھڑکا، لائٹر سے آگ لگائی اور وہاں سے فرار ہوگیا۔ صدام حسین نے کہا کہ آگ لگنے کے بعد سب لوگ گھبرا گئے اور فوری طور پر زخمیوں کو اسپتال لے گئے۔
زخمی کے بھائی نے دعویٰ کیا کہ مبینہ حملہ آور ان کے گھر کے بالکل سامنے رہتا ہے اور انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ اس نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اور مبینہ ملزم کے درمیان کسی قسم کا تنازع نہیں تھا۔ واقعہ کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور ملزم کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔
پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ حملے کے پیچھے اصل وجہ کیا تھی اور آیا واقعہ کسی سابقہ تنازع، ذاتی دشمنی یا کسی اور وجہ سے پیش آیا۔


